• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کانگریس ایم پی ادھیر رنجن چودھری کا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط

Updated: December 02, 2023, 1:28 PM IST | New Delhi

کانگریس ممبر پارلیمان ادھیر رنجن چودھری نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا ہے جس میں اپیل کی ہے کہ وہ مہوا موئترا کے معاملے میں پارلیمانی کمیٹی کے عمل کی جامع نظرثانی کریں اوراخلاقیات کمیٹی کے عمل کی جانچ پڑتال اور شفافیت کے حوالے سے خدشات پربھی زور دیا ہے۔ چودھری نے خط میں معطی کو ایک سنگین سزا قرار دیا ہے۔

Congress leader Adhir Ranjan Chaudhary. Photo: INN
کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری۔ تصویر: آئی این این

ترنمول کانگریس کی رکن اسمبلی مہوا موئترا کو ’’پیسہ لے کر سوال پوچھنے‘‘ کے معاملے میں نکالے جانے کے اخلاقیات کمیٹی کی سفارش کے پس منظر میں کانگریس ممبر پارلیمان ادھیر رنجن چودھری نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کوخط لکھا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے عمل کی جامع نظر ثانی کریں۔
اخلاقیات کمیٹی ، جس کی صدارت ونود کمار سونکرنے کی تھی ، نے ۹؍ نومبر کو میٹنگ کے دوران رپورٹ قبول کی تھی ۔ ۶؍ ممبران نے مہوا موئترا کی معطلی کی حمایت کی تھی جبکہ ۴؍ اپوزیشن ممبران نے موئترا کی معطلی کی مخالف میں نوٹ داخل کی تھی ۔یہ رپورٹ پیر کو سرمائی اجلاس کے آغازکے دوران لوک سبھا میں پیش کی جائے گی۔
کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اپنے خط میںاخلاقیات کمیٹی کے عمل کی جانچ پڑتال اور شفافیت کے حوالے سے خدشات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اخلاقیات اور استحقاق کمیٹی کے کردار میں ممکنہ ابہام اور تعزیری اختیارات کیلئے واضح رہنما اصولوں کی عدم موجودگی کی نشاندہی بھی کی ہےاور غیر معمولی معطلی کی تجویز اور اس کے نتائج پر بھی سوال قائم کیا ہے۔
ادھیر رنجن چودھری نے خط میں لکھا ہے کہسر(اوم برلا) آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ پارلیمنٹ سے بے دخلی واقع سنگین سزا ہے جس کے وسیع اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔انہوں نے سوال قائم کیا کہ کیا مہوا موئترا کے معاملے میں طے شدہ طریقہ کارکی پیروی کی گئی تھی ۔ 
خیال رہے کہ اخلاقیات کمیٹی نے اس معاملے میں بی جے پی ایم پی  نشی کانت دوبے کے الزامات کی بنیاد پر مہوا موئترا کے خلاف تفتیش کی تھی ۔ نشی کانت دوبے نے مہوا موئترا پر الزام عائد کیا تھاکہ وہ بزنس مین درشن ہیرانندانی کے کہنے پر تحائف کےبدلے لوک سبھا میں اڈانی گروپ کو نشانہ بنانے کیلئے سوال پوچھتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھاکہ وکیل جے اناننت دہیادہرائی نے انہیں اس مبینہ رشوت معاملے کے ثبوت بھی دیئے ہیں۔تاہم ، بی جے پی ایم پی اور اجے اناننت لوک سبھا کی اخلاقیات کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے ہیرانندانی کے سامنے نہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK