نامساعد حالات مگر حفاظ تراویح پڑھا کر مسرور،مطمئن

Updated: May 02, 2021, 11:21 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

روزہ تراویح میں ۲۔ ۲؍ پارہ کی ترتیب سے قرآن کریم سنانے والے حفاظ نے بیک زبان کہا: مدارس بند ہونےسے تعلیم کا زبردست نقصان ہوا ہے لیکن قرآن کریم سنانے کیلئے رمضان میں کی گئی محنت اور دَور سے کہیںنہ کہیںاس کا ازالہ بھی ہوا ہے

Hafiz Muhammad Afroz bin Athar Hussain.Picture:Midday
حافظ محمد افروز بن اطہر حسین تصویر مڈڈے

کورونا کی وباء کی وجہ سے موجودہ مشکل حالات میںجبکہ بہت سی سرگرمیاںٹھپ ہیں اور زندگی کی رفتار تھمی ہوئی ہے، حاملین قرآن اپنی سرگرمی جاری رکھتے ہوئے تراویح میں قرآن کریم سنانے میںمصروف ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ خداوند قدوس نے انہیں جو نعمت عطافرمائی ہے اوراپنے پاک کلام کو سینے میںمحفوظ کرنے کی جو امانت دی ہے، اس کا حق ادا ہو اور وہ من وعن محفوظ رہے ۔
 اسی بناء پر خواہ وقتی طور پر مساجدمیںعام لوگوں کی  نماز کی ادائیگی کا سلسلہ موقوف ہو، جماعت ِ کثیرہ کی اجازت نہ ہو اورہال یا میدان میںبڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہوکر رحمٰن کی کبریائی بیان کرنے کی روایت معطل ہو مگر حفاظ ِ کرام  گھروں ،عمارت کی چھتوں، کارخانوں ، ہال اور کمروں میں کووڈپروٹوکول کے مطابق چھوٹی چھوٹی جماعتوں میںقرآن کریم سنانے کااپنا اہتمام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
 دارالعلوم قاسمیہ گوکل دھام ملاڈ کے۴؍ حفاظ نے مختلف مقامات پر ۱۵؍ دن میں قرآن کریم تراویح میں سنایا ہے۔ ان میں۲؍ عربی درجات اور۲؍ شعبۂ حفظ کےطالب علم ہیں۔ ان چاروں کاجو یکساں جواب اورقلق تھا وہ یہ تھا کہ مدارس بند ہونے سے ان کا زبردست تعلیمی نقصان ہواہے ورنہ وہ ترقی کرتے ہوئے آگے کی جماعتوں میںہوتے ۔ 
 حافظ محمد افروز بن اطہر حسین (عربی سوم کے طالب علم) نے ویشالی نگر جو گیشوری (مشرق ) میں تراویح میں قرآن کریم مکمل کیا ۔ تعلیمی سلسلہ بند ہونے اورسال ضائع ہونے پر انہیں افسوس ہے کیونکہ تعلیمی سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہنے پر عربی درجات میںترقی کرتے ہوئے وہ عالمیت کے قریب پہنچتے لیکن انہیں خوشی اس بات کی ہے کہ ریاست اور شہرمیں کورونا کے سبب  ان مخدوش اور نامساعد حالات میںبھی اللہ پاک نے اپنے مقدس کلام کو تراویح میںپورا کرنے کی سعادت نصیب فرمائی۔
 حافظ محمد یحییٰ بن عبد الحفیظ (عربی اول کے طالب علم )  نے کوکنی پاڑہ پٹھان واڑی( ملاڈ  مغرب ) میںقرآن کریم سنایا ۔ تعلیمی سلسلہ رک جانے پریہ بھی پریشان ہیںلیکن کلام الٰہی کی تکمیل پر اُنہیں مسرت و اطمینان ہے کہ کم از کم رمضان میںتراویح پڑھانے سے تو اللہ پاک نے محروم نہیں رکھا ورنہ یہ اس سے بھی بڑی محرومی ہوتی۔‘‘
 حافظ محمد سلمان بن ارشاد احمدنے یاری روڈ ورسوا، اندھیری مغرب میں قرآن کریم سنایا۔ یہ حفظ مکمل کرنے کے بعد بہتر یادداشت اورپختہ کرنے کی خاطر دَور کررہے ہیں۔ ان کے بقول تراویح میں قرآن کریم سنانے کا فائدہ یہ ہوا کہ مدرسہ بند ہونے سے جو تعلیمی وقت بچ گیا تھا وہ تراویح کے لئے قرآن کریم سنانے کی خاطرکی گئی محنت پر صرف ہوا جسے ہم نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں ۔‘‘ حافظ وجاہت اللہ بن کلیم اللہ نے کوکنی پاڑہ میںقرآن کریم تراویح میںمکمل کیا۔
 ان تمام حفاظ نے ۱۵؍ روزہ ترتیب کے مطابق ۲۔۲؍ پارہ کے حساب سے پڑھایا اور قرآن کریم مکمل کیا۔ تکمیل قرآن پرانہیں بے حد خوشی ہے کہ رب العالمین نے انہیں اس مبارک مہینے میں اس بیش بہا نعمت سے بہرہ ور فرمایا اور اپنا مقدس کلام پڑھنے کی سعادت بخشی ۔ 

hafiz Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK