تراویح پڑھنے اور پڑھانےوالے کوقرآن کی حلاوت نصیب ہوتی ہے

Updated: May 04, 2021, 9:42 AM IST | kazim shaikh | Mumbai

شہر اور مضافات میں گزشتہ کئی برسوں سے تراویح میں قرآن کریم سنانے والے حفاظ نے کورونا کے سبب عائد پابندیوں کی وجہ سے مصلیان کی کمی پررنج و غم کا اظہار کیا

Hafiz Nematullah Khan.Picture:Inquilab
حافظ نعمت اللہ خان تصویر انقلاب

حافظ قرآن کے تعلق سے فرمایا گیا ہے کہ حافظ باعمل ہے تو اس کیلئےبہت ساری  خوشیاںا للہ رب العزت  نے عطا کی ہیں ۔ حافظ کے بارے میں ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حفاظ کرام سے فرمائیں گےکہ قرآن پڑھتا جا اور منزل بہ منزل چڑھتا جا ۔ جہاں قرآن مقدس کی آخری آیت مکمل ہوگی ۔ اسی بلندی پر اس کا  ٹھکانہ ہوگا ۔ قرآن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر  صاف الفاظ میں پڑھا جائے تو تراویح پڑھنے اور پڑھانے والے کو قرآن کی   حلاوت نصیب ہو تی ہے ۔ 
 بلاشبہ کلام الٰہی وہ مقدس کلام ہے جس کا پڑھنا ، سننا، دیکھنا اوراسے سمجھنا عبادت ہے   اورجب کوئی شخص اہتمام اور انہماک کے ساتھ اس کی جانب راغب ہوتا ہے تواس کے انوارات اور کمالات اس کے ذہن پر اثراندازہونے لگتے ہیں جس سے اس کی کیفیت بدلنے لگتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حفاظ اس ماہ مبارک میں قرآن کی تلاوت اورتراویح میں سنانے کا خاص اہتمام کرتے ہیں جس سے ثواب اور اجر تو حاصل ہوتا ہی ہے ،یادداشت بھی عمدہ اورپختہ ہوجاتی ہے۔ ان حفاظ  نے  انقلاب کے ساتھ بات چیت میںکہا کہ ہر سال رمضان المبارک میںتمام نمازوں کی  طرح   تراویح کی نماز میں مسجد بھری نظرآتی تھیں۔ مسلم محلوں کی تقریباً تمام مساجد سے قرآن پاک کی تلاوت چلتے پھرتے سننے کو ملتی تھی لیکن گزشتہ ۲؍ سال سے کمبخت کورونا نے جہاں  تمام چیزوں کومتاثر کیا ہے   وہیں ہماری مسجدوں پر بھی اس نے کافی اثرڈالا ہے ۔ مساجد میں بھی سابقہ برسوں کے مقابلے مصلیان کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔اس سے دل کو شدید تکلیف پہنچتی ہے ۔   
 حافظ نعمت اللہ خان نے بتایا کہ انھوں نے حفظ کی شروعات گورکھپور کے ایک چھوٹے مدرسہ سے کی لیکن پورا حفظ قرآن مدرسہ فرقانیہ گونڈہ میں ہوا ۔ممبئی میں  میری آمد ۱۹۸۲ء میں ہوئی ۔ اس کے بعد سے الحمدللہ ساکی ناکہ خیرانی روڈ کی مشہور مسجد حسینیہ میں نائب  امامت کے فرائض انجام دے رہاہوں اور اُسی سال سے نماز تراویح میں مکمل قرآن  ماہ رمضان المبارک میں تراویح کی نماز میں سنارہاہوں ۔  اسی وقت سے ہی لوگوں نے اس حقیر فقیر کو ہی پسند فرمایاہے ۔ تقریباً ۴۰؍ سال سے میں مکمل قرآن نماز تراویح میں سنارہا ہوں ۔
 تراویح کی نماز میں اگر چہ نمازیوں کی تعداد کم ہے پھر بھی قرآن کاپڑھنا اور اس کی سماعت نماز تراویح میں بند نہیں ہوئی ۔ 
  گوونڈی  میں مقیم  مولانا حافظ  محمد سلیم  قاسمی کا تعلق یوپی ضلع سنت کبیر نگرسے  ہے۔۱۹۸۵ء میں مکتب کی تعلیم  کے بعد قرآن مجید حفظ کرنے کاشوق ہوا تو انھوں نے قرآن حفظ کرنا شروع کر دیااور ۱۹۸۸ء میں قرآن پاک مکمل حفظ کرلیا ۔بعد ازاں  ایک سال تک قرآن کریم کا دور کیا۔ اخیر کے مہینوں میں ۱۰۔۱۰؍پارے کا دور اور استاد محترم کے اشارے پر ایک  دن میں ہی  پورا قرآن بھی سنایا   ۔ گاؤں سے لے کر ممبئی تک ہر سال بلاناغہ۳۲؍ سال سے قرآن کریم تراویح میں سنانے کا معمول ہے ۔
 قاری محمد شاہد امام وخطیب مکہ مسجد خیرانی روڈ نے کہا کہ اللہ تعالی کب کس کی زندگی بدل دیں گے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ انھوں نےاپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے گاؤں  کے  تالاب میں مچھلیاں پکڑنے کیلئے لوگ دوڑے ۔ میں بھی لوگوں کے پیچھے تالاب کی طرف  بھاگا ۔ تالاب سے پہلے راستے میں ایک مکتب تھا۔اس کی باؤنڈری میں کئی طرح کے پھولوں کے  پیڑ تھے۔   بس میری نظر ان خوبصورت پھولو ں پر پڑی اور مجھے وہ منظر اتنا خوشنما لگاکہ میں نے اس مکتب میں دینی تعلیم شروع کردی ۔ پھر کیا تھا ،منزل بہ منزل بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے حفظ قرآن ڈھائی سال میںمکمل کرلیا ۔ اس کے بعد درجات عربی مکمل ہوا ۔ اب  میری زندگی میں ایک  اصول سا بن گیا کہ کوئی بھی رمضان ایسا نہیں گزرا جس  میں  تراویح میں قرآن نہ سنایا ہو۔ماشاءاللہ اس سال بھی مکہ مسجد خیرانی روڈ میں۳۲؍ ویں  مرتبہ تراویح میں مکمل قرآن سنانے کا عمل جاری ہے ۔ 
 گوونڈی میں مقیم اور گھاٹ کوپر میں تجارت کرنے والے حافظ محمد زماں شیخ نے بتایا کہ ۱۹۷۷ء میں انھوں نے حفظ قرآن مدرسہ اسلامیہ بھٹنی سے مکمل کیا اور اسی سال سے یعنی ۴۴؍سال سے  تروایح میں قرآن کریم مکمل سنارہے ہیں ۔ فراغت کے بعد ابتدائی برسوں میں کئی مساجد میں تراویح پڑھائی لیکن بعد میں حفاظ کی تعداد بڑھتی گئی اور ماشاءاللہ ہر سال اتنے حفا ظ مدرسوں سے نکلنےلگے کہ سب کومسجد میںجگہ نہ ملنے پران ہی کی طرح  ہم بھی گھروںاور کارخانوں میں تراویح پڑ ھارہے ہیں۔
 مولانا حافظ وقاری عبدالعزیز کہتے ہیں کہ حفظ مکمل ہونے کے بعد مسلسل ۳۲؍ برسوں سے تراویح میں مکمل قرآن پاک سنا رہے ہیںاور ۲۳سال سے گھاٹکوپر کے دارالسلام مسجد میں تراویح پڑھانےکا شرف حاصل ہے۔  مولانا نے کہا کہ تراویح میں قرآن کی جو تلاوت ہوتی ہے   نماز بعد اس کی مختصر تفسیر بھی بیان کی جاتی ہے۔پہلے تراویح میں کافی دور دور سے لوگ شرکت کیلئے آتے تھے اورقرآن مکمل ہونے  پر خصوصی دعا کا اہتمام ہوتا  تھا لیکن گزشتہ ۲؍برسوں سے لاک ڈاؤن کے سبب مساجد میں چند افراد ہی رہتے ہیں  جس سے دل کو شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ 

hafiz Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK