• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ایس ایس اے آئی کی کارروائی کے بعد اشتہاری ایجنسیوں کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی

Updated: September 23, 2026, 4:09 PM IST | Mumbai

ہندوستان میں فوڈ برانڈز کی جانب سے مصنوعات، صحت اور غذائیت سے متعلق دعوؤں پر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی ) کی نگرانی سخت ہونے کے ساتھ اب اشتہاری ایجنسیوں کے کردار اور ذمہ داری پر بھی توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔

FSSAI.Photo:INN
ایف ایس ایس اے آئی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں فوڈ برانڈز کی جانب سے مصنوعات، صحت اور غذائیت سے متعلق دعوؤں پر  فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی ) کی نگرانی سخت ہونے کے ساتھ اب اشتہاری ایجنسیوں کے کردار اور ذمہ داری پر بھی توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ حالیہ کارروائیوں اور ریگولیٹری تقاضوں نے یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ کسی فوڈ پروڈکٹ کے اشتہار میں کیے گئے دعوے کے لیے صرف برانڈ یا فوڈ بزنس آپریٹر ہی نہیں بلکہ اشتہار تیار اور شائع کرنے والے فریق کی ذمہ داری کہاں تک بنتی ہے۔ 
ایف ایس ایس اے آئی  کے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹیڈرڈس ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز ریگولیشنز ۲۰۱۸ء  کے مطابق فوڈ مصنوعات سے متعلق دعوے سچے، واضح، بامعنی اور غیر گمراہ کن ہونے چاہئیں۔ خاص طور پر اگر کسی پروڈکٹ کے بارے میں غذائی یا صحت سے متعلق فائدے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اسے سائنسی طور پر قابلِ اعتماد اور توثیق شدہ طریقوں سے ثابت کرنا ضروری ہے۔ اشتہار میں کیا گیا دعویٰ پروڈکٹ کے لیبل پر موجود معلومات سے بھی مطابقت رکھنا چاہیے اور صارفین کو دھوکا دینے والا اشتہار قابلِ قبول نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اللو ارجن اور ایٹلی کی ’’راکا‘‘نے ۳۷؍ فنکاروں کے موشن کیپچر کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا لیا

اس بدلتے ہوئے ریگولیٹری ماحول میں فوڈ برانڈز اور ان کے اشتہاری شراکت داروں کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ’’ Trust me‘‘ یعنی ’مجھ پر بھروسہ کریں‘۔ اس کے بجائے  ’’Show me‘‘ یعنی ’مجھے ثبوت دکھائیں‘  کا اصول زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ کو صحت، غذائیت، اجزا یا کسی مخصوص فائدے سے جوڑا جاتا ہے تو اس دعوے کے پیچھے مناسب سائنسی شواہد موجود ہونا ضروری ہے۔  ایف ایس ایس اے آئی  نے واضح کیا ہے کہ صحت سے متعلق دعوے موجودہ اور متعلقہ سائنسی شواہد پر مبنی ہونے چاہئیں۔ 
ایف ایس ایس اے آئی  کے ضوابط کے تحت کسی دعوے کی منظوری کے عمل میں دعوے کی نوعیت، متعلقہ جزو یا غذائی مادے، تجزیے کے توثیق شدہ طریقے اور دعوے کی حمایت کرنے والی سائنسی معلومات طلب کی جا سکتی ہیں۔ صحت سے متعلق دعووں کے معاملے میں اچھی طرح ڈیزائن کیے گئے انسانی مطالعات بھی درکار ہو سکتے ہیں۔ اشتہاری ایجنسیوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی برانڈ کی جانب سے فراہم کردہ دعوے کو صرف تخلیقی مواد سمجھ کر اشتہار میں شامل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اگر کسی اشتہار میں ۱۰۰؍فیصد ،قدرتی،  صحت کے لیے فائدہ مند،توانائی بڑھانے والا،شوگر فری،کوئی اضافی شکر نہیں  یا اسی نوعیت کا دعویٰ استعمال کیا جا رہا ہے تو اس کی قانونی اور سائنسی بنیاد کو سمجھنا بھی اہم ہو جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں کئی بڑے برانڈز نے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں استعمال ہونے والی زبان میں تبدیلی کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایم وے انڈیا  نے بعض مصنوعات سے ۱۰۰؍فیصد جیسے دعوے ہٹائے، مونڈیلز نے بورنویٹا سے متعلق بعض صحت کے دعوے واپس لیے، پیپسیکو نے اسٹنگ کینز سے’’انرجی‘‘ کی اصطلاح ہٹائی۔ یہ تبدیلیاں ایف ایس ایس اے آئی  کی جانب سے فوڈ کمپنیوں اور مینوفیکچررز کو گمراہ کن دعووں اور لیبلنگ سے متعلق نوٹسز کے وسیع تر پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے : سیتا رمن

ایف ایس ایس اے آئی  نے اس سے قبل بھی واضح کیا ہے کہ فوڈ مصنوعات سے متعلق جھوٹے یا مبالغہ آمیز صحت کے دعوے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق متعلقہ افسران فوڈ بزنس آپریٹرز سے صحت سے متعلق دعوؤں کے سائنسی شواہد طلب کر سکتے ہیں۔ اگر مطلوبہ ثبوت فراہم نہ کیے جائیں یا جواب اطمینان بخش نہ ہو تو دعوے کو واپس لینے یا ضوابط کے مطابق تبدیل کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ 
 فوڈ مارکیٹنگ میں ’’Trust me‘‘ سے ’’Show me‘‘ کی طرف بڑھتا رجحان محض اشتہاری زبان کی تبدیلی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ صحت اور غذائیت سے متعلق دعوؤں کو اب زیادہ مضبوط سائنسی ثبوت، شفاف معلومات اور ریگولیٹری تعمیل  کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ برانڈ ہو، مارکیٹر ہو یا اشتہاری ایجنسی، صارف کے سامنے کیا جانے والا ہر اہم دعویٰ قابلِ جانچ بنیاد رکھتا ہو، یہی موجودہ ریگولیٹری سمت کا بنیادی پیغام ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK