Inquilab Logo Happiest Places to Work

باغپت میں نکاح کیلئے حلف نامہ لازمی

Updated: July 14, 2026, 9:06 AM IST | Bagpat

دولہا اور دولہن کے بالغ ہونے، ازدواجی حیثیت اور قانونی معلومات دینی ہوگی، بڑوت کی میٹنگ میں تجاویز پیش کی گئیں۔

Recently, in a meeting held in Barut, Baghpat, the proposal of affidavit before marriage was considered. Photo: INN
گزشتہ دنوں باغپت کے بڑوت میں میٹنگ میں نکاح سے قبل حلف نامہ کی تجویز پر غور کیا گیا۔ تصویر: آئی این این

نکاح کو تنازعات سے پاک بنانے  اور قاضی حضرات کو عدالتوں کے چکر سے محفوظ  رکھنے کیلئے  باغپت میں اب  نکاح  سے قبل دونوں فریق کو   اسٹامپ پیپر پر حلف نامہ دینا پڑسکتاہے۔اس سلسلے  میں صلاح و مشورہ جاری ہے۔    بڑوت کی جامع مسجد میں  خدمت سوسائٹی کی ایک میٹنگ   کے بعد جس میں  جمعیۃ علماء ہند کے مقامی  نمائندوں  نے بھی شرکت کی ، میڈیا کا ایک بڑاحلقہ یہ خبر چلا رہاہے کہ باغپت میں اب نکاح کیلئے دولہا دولہن کی جانب سے حلف نامہ دینا لازمی ہوگا تاہم   خدمت سوسائٹی  بڑوت کے صدر ڈاکٹر عرفان ملک کے مطابق اب تک اس تعلق سے ایک سے زائد میٹنگیں کی جاچکی ہیں لیکن اس کا نفاذ نہیں کیا گیا ۔  انہوں نے بتایا کہ ۲؍دن قبل بھی مشاورتی میٹنگ جامع مسجد بڑوت میں کی گئی تھی۔ 
مرحلہ وار نفاذ کا ارادہ
 انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں اسے باغپت ضلع کی سطح پر نافذ کرنے کا ارادہ ہے اور اسے خدمت سوسائٹی کے ہی پلیٹ فارم سے علماء، ائمہ مساجد اور قانونی وسماجی ذمہ داران کے مشورے اور آئین ہند اور شریعت کے اصولوں کو سامنے رکھ کر قدم بڑھایا جائے گا۔ حلف نامہ  میںدولہا اور دولہن کے بالغ ہونے، ان کی ازدواجی حیثیت اور دیگر قانونی معلومات فراہم کرنی ہوگی۔  اس تجویز پر اس پس منظر میں  غور کیا جارہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کم عمر افراد کے نکاح، پہلے سے شادی شدہ ہونے اور زیر سماعت مقدمات جیسی معلومات چھپا کر نکاح کرانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس کے بعد قاضی حضرات کو بھی پولیس اور عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ حلف نامہ میں فراہم کردہ معلومات اگر  غلط ثابت ہوئیں تو اس کی پوری ذمہ داری متعلقہ فریق پر عائد ہوگی۔
حلف نامہ کا مقصد قاضی حضرات کاقانونی تحفظ
 ڈاکٹر عرفان ملک نے بتایا کہ اسکا مقصد بنیادی طور پر یہ ہے کہ نکاح پڑھانے کے بعد قاضی حضرات یا علماء کو جو پیچیدگی پیش آتی ہے اور فریقین کے ذاتی معاملات کے سبب جو مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے  اس سے انہیں محفوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی  بڑوت کی سطح پر مزید بڑی میٹنگ ہوگی اس کے بعد باغپت ضلع میں بڑی میٹنگ ہوگی، اس میں بڑے پیمانے پر ذمہ دار اشخاص کومدعو کیا جائے گا اسی میٹنگ میں   اس کے نفاذ کا اعلان کیا جائے گا۔
فیصلہ جمعیۃ کی میٹنگ میں نہیں ہوا
 باغپت ضلع جمعیۃ کے نائب صدر مفتی شاہ عالم مظاہری نے انقلاب کے استفسار پر وضاحت کی کہ میٹنگ خدمت سوسائٹی نے میٹنگ طلب کی تھی جس میں ہم نے بھی شرکت کی۔ چونکہ یہ ایک اچھا قدم ہے اورمقصد ائمہ اور نکاح پڑھانےوالے حضرات کو قانونی پیچیدگیوں سے بچانا ہے، اس لئے اس کے تئیں جمعیۃ نے پسندیدگی کا اظہار کیا ۔ دعویٰ کیا جارہاہے کہ اس تجویز کو عوامی حمایت بھی حاصل ہورہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK