Inquilab Logo Happiest Places to Work

گزشتہ چار برسوں میں ٹرینوں سے۱۰۴ کروڑ روپے مالیت کی چادریں، تولیےاور کمبل چوری؛ ۲۷ء۱ کروڑ اشیاء غائب

Updated: July 13, 2026, 7:08 PM IST | New Delhi

۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان ریلوے کی جانب سے مہیا کرائے جانے والے سامان کی چوریوں میں ۵۶ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چہرہ پونچھنے والے چھوٹے تولیے سب سے زیادہ تعداد میں چوری ہوئے۔ گزشتہ چار برسوں میں ۵۴ء۴۶ لاکھ تولیے غائب ہوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انڈین ریلوے کے ایئر کنڈیشنڈ (AC) کوچز میں سفر کرنے والے مسافروں نے جنوری ۲۰۲۲ء سے اب تک ۱۰۴ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ۲۷ء۱ کروڑ سے زائد بیڈ رول کا سامان بشمول چادریں، تولیے، کمبل اور تکیے چرائے ہیں۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی جانب سے تمام ۶۹ ریلوے ڈویژن میں دائر کی گئی آر ٹی آئی (RTI) درخواستوں پر مبنی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے۔ ۵۴ ڈویژنوں سے موصول ہونے والے جوابات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان اس طرح کی چوریوں میں ۵۶ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: بیشتر سرکاری اسکول میں طلبہ سہولیات سے محروم

انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق، چہرہ پونچھنے کیلئے استعمال ہونے والے چھوٹے تولیے (Face towels) سب سے زیادہ تعداد میں چوری ہوئے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں ۵۴ء۴۶ لاکھ تولیے غائب ہوئے۔ اس کے علاوہ، ۱۳ء۴۱ لاکھ چادریں، ۵۹ء۲۳ لاکھ تکیوں کے غلاف، ۹۵ء۱۲ لاکھ کمبل اور ۷۶ء۲ لاکھ تکیے چوری ہوئے۔ واضح رہے کہ اے سی سلیپر کوچز میں سفر کرنے والے مسافروں کو عام طور پر دو چادریں، ایک کمبل، ایک تکیہ، ایک تکیے کا غلاف اور ایک فیس تولیہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ ۸ لاکھ مسافر اے سی ڈبوں میں رات کا سفر کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ ڈویژنز

چوری شدہ سامان کا ۶۷ فیصد حصہ، انڈین ریلوے کے سات زون کے صرف دس ڈویژنز میں غائب ہوا۔ ان چوریوں سے بیکانیر ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں ۷۶ء۲۵ لاکھ اشیاء چوری ہوئیں۔ اس ڈویژن میں ۲۰۲۲ میں ۹۹ء۲ لاکھ چوریاں ہوئی جن کی تعداد حالیہ برسوں میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ ۳۴ء۱۲ لاکھ پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، رانچی میں ۳۱ء۹ لاکھ، دہلی میں ۲۱ء۸ لاکھ، ممبئی میں ۱۷ء۸ لاکھ، جودھپور میں ۰۹ء۸ لاکھ، احمد آباد میں ۹۴ء۶ لاکھ، اور داناپور میں ۷۲ء۵ لاکھ اشیاء کی چوری ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم، دہلی میں اس مدت کے دوران چوریوں میں ۷۹ فیصد تک کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرینیں رد کئےجانے سے ۹۰؍ ہزار مسافروں کو تقریباً ۷؍ کروڑ روپے لوٹائے گئے

اس نقصان کا بوجھ کون اٹھاتا ہے؟

اس مالیاتی نقصان کا پورا بوجھ بیڈ رول کے ٹھیکیداروں پر پڑتا ہے جنہیں سامان غائب ہونے پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ٹھیکیدار اس نقصان کی رقم کوچ اٹینڈنٹس کی تنخواہوں سے کاٹتے ہیں، جس کی شرح ۳۴۳ روپے فی کمبل، ۱۹۸ روپے فی چادر، ۱۱۵ روپے فی تکیہ، ۵۵ روپے فی تکیے کا غلاف اور ۴۸ روپے فی تولیہ ہے۔ کچھ ٹھیکیداروں نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ ان ناقابلِ برداشت نقصانات کی وجہ سے انہیں اپنے ریلوے کے ٹھیکے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک ٹھیکیدار کے سپروائزر نے بتایا کہ اسے ان چوریوں کی وجہ سے تین سالہ معاہدہ محض ۱۴ ماہ میں ختم کرنا پڑا۔

ریلوے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ لاگت کی وصولی ٹھیکیدار کے بلوں سے کی جاتی ہے اور ریلوے چوریوں میں عملے کی ملی بھگت کے شواہد قائم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لنن کی چوری کو روکنے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK