Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیان واپی، متھرا، سنبھل تنازعات میں ہندو اور مسلم فریقین نے سپریم کورٹ کی تصفیے کی تجویز مسترد کردی

Updated: July 13, 2026, 5:07 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں تنازعات کے مصالحتی حل کیلئے اپنے ”سمادھان سماروہ ۲۰۲۶ء“ اقدام کے تحت وارانسی کے گیان واپی مسجد تنازع، متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجد-شری کرشنا جنم بھومی تنازع اور سنبھل مسجد تنازع میں فریقین سے رضامندی مانگی تھی۔ ان تینوں مقدمات میں شامل تمام فریقین نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہندو اور مسلم دونوں فریقین نے اترپردیش میں مسجد اور مندر سے جڑے تین بڑے تنازعات میں سپریم کورٹ کی تصفیہ کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، اس کے بجائے انہوں نے ان معاملات کو عدالتی کارروائی کے ذریعے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں تنازعات کے مصالحتی حل کیلئے اپنے ”سمادھان سماروہ ۲۰۲۶ء“ اقدام کے تحت وارانسی کے گیان واپی مسجد تنازع، متھرا کے شری کرشنا جنم بھومی-شاہی عیدگاہ مسجد تنازع اور سنبھل کی شاہی جامع مسجد تنازع میں فریقین سے رضامندی مانگی تھی۔ ان تینوں مقدمات میں شامل تمام فریقین نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: چیف جسٹس کو گالی دینے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے انکار

تینوں تنازعات پر ایک نظر

گیان واپی تنازع وارانسی کے گیان واپی کمپاؤنڈ کی مذہبی حیثیت کے بارے میں متنازع دعوؤں پر مبنی ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے تہہ خانے میں ۱۹۹۳ء تک پوجا کی جاتی تھی، جسے مبینہ طور پر ملائم سنگھ یادو حکومت نے رکوا دیا تھا۔ ان کا مزید الزام ہے کہ ۱۷ ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے حکم پر ایک قدیم مندر کے حصے کو منہدم کرکے وہاں مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ دوسری طرف، مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ یہ مسجد اورنگ زیب کے دورِ حکومت سے پہلے کی ہے اور مسلمان ہمیشہ سے اس عمارت پر قابض رہے ہیں۔

متھرا کا شاہی عیدگاہ مسجد-شری کرشنا جنم بھومی تنازع، شری کرشنا وراجمان کی طرف سے دائر کئے گئے مقدمے پر مرکوز ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد، کرشنا جنم بھومی کی زمین پر بنائی گئی تھی۔ ہندو فریق مسجد کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایک سول کورٹ نے شروع میں ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء‘ (ملازمتی مقامات کے قانون) کا حوالہ دیتے ہوئے اس مقدمے کو خارج کر دیا تھا، لیکن متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپیل پر اس فیصلے کو پلٹ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: بیشتر سرکاری اسکول میں طلبہ سہولیات سے محروم

سنبھل تنازع ایک درخواست سے شروع ہوا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر کی شاہی جامع مسجد، مغل دور میں منہدم کردہ مندر کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔ ایک سول کورٹ نے نومبر ۲۰۲۴ء میں مسجد کے سروے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ۲۴ نومبر ۲۰۲۴ء کو جب دوسری سروے ٹیم وہاں پہنچی تو پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کے دوران تشدد بھڑک اٹھا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اب ان تینوں تنازعات کی سماعت عدالت میں جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK