افغان فورس کو طالبان کی پیش قدمی روکنی ہوگی: امریکہ

Updated: July 27, 2021, 6:35 AM IST | washington

وزیرد فاع لائیڈ آسٹن کے مطابق افغان آرمی کو پہلے طالبان کی سرگرمیوں پر قابو پانا ہوگا اس کے بعد ان سے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کی کوشش کرنی ہوگی

Lloyd Austin is advising the Afghan forces while his own troops are leaving Afghanistan.Picture:PTI
لائیڈ آسٹن افغان فورس کو مشورہ دے رہے ہیں جبکہ ان کی اپنی فوج افغانستان چھوڑ کر جا رہی ہے تصویرپی ٹی آئی

 ۲۰؍ سال تک طالبان سے لڑنے کے بعد نامراد لوٹنے والی امریکی فوج  کے سربراہ یعنی امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اب افغان فورس کو نصیحت کر رہے ہیں کہ انہیں طالبان کی پیش قدمی کو روکنا ہوگا۔  ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل ا مریکی ریاست الاسکا کی ایک ایئربیس کی طرف جاتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اپنے ہمراہ جانے والے صحافیوں کو بتایا کہ افغان  لیڈر طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کے ارادے پر قائم بھی ہیں اور وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
 آسٹن کا کہنا تھا کہ افغان قیادت کیلئے سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ طالبان کا `مومینٹم(سرگرمی) کم کریں۔ اس کے بعد انہیں اپنے آپ کو ایسی پوزیشن میں لانا ہے جہاں وہ طالبان کے قبضے سے علاقوں کو واپس لے سکیں۔افغان قیادت کے حوالے سے آسٹن نے کہا کہ وہ طالبان کی پیش قدمی روکنے کا عزم اور صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔خیال رہے کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کا ۸۵؍ فی صد علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔واشنگٹن میں قائم ادارے `فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے جریدے `لانگ وار جرنل کے مطابق یکم مئی سے شروع ہونے والے امریکی فوج کے انخلا سے اب تک طالبان نے اپنے زیرِ کنٹرول اضلاع میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔ لائیڈ آسٹن کے اس بیان پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغان فورس بغیر ٹیکنالوجی اور طاقت کے طالبان کو کیسے روکے گی جبکہ خود امریکہ انہیں نہیں روک سکا؟
 اطلاع کے مطابق طالبان کے قبضے میں  پہلے ۷۵؍ اضلاع تھے جو بڑھ کر اب ۲۲۰؍ ہو چکے ہیں۔ یاد رہے افغانستان میں کل ۴۱۹؍ اضلاع ہیں۔
 امریکہ کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنر ل مارک ملی نے گزشتہ ہفتے  پنٹاگون میں صحافیوں سے کو بتایا تھا کہ وہ اندازے جو ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان کے اطراف میں تیزی سے مختلف علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے رہے ہیں، وہ حقیقت سے دُور نہیں ہیں۔مارک ملی کاکہنا تھا کہ افغانستان  کے ۲۱۲؍ ضلعی مراکز جو کہ ملک کے کل اضلاع کا تقریباً نصف بنتے ہیں اس وقت طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور طالبان جنگجو ملک کے ۳۴؍ میں سے ۱۷؍ صوبائی دارالحکومتوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس دوران امریکی محکمۂ دفاع کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے افغان فورس کی حمایت میں طالبان کے خلاف گزشتہ دنوں متعدد فضائی کارروائیاں کی ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کے ۳۱؍ اگست کو مکمل ہونے والے انخلا تک ان کے پاس طالبان کے خلاف فضائی کارروائیاں کرنے کا اختیار ہے۔البتہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ، جنرل فرینک مکینزی کے مطابق ۳۱؍ اگست کے بعد افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا مقصد صرف القاعدہ اور داعش کو روکنا ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK