Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنچ کی تبدیلی کے بعد گھر پر باجماعت نماز پر ہائی کورٹ کا موقف تبدیل،کارروائی کو جائز ٹھہرایا

Updated: April 02, 2026, 8:39 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Allahabad

نئی بنچ نے کہا:نقض امن کا خطرہ ہونے پر انتظامیہ کارروائی کیلئے آزاد ہے

Allahabad High Court
الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی میں گھر میں باجماعت نماز کےمعاملے  میں  فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نجی مقام پر عبادت کیلئے بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے امن و امان متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو انتظامیہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے آزاد ہے۔
  جسٹس سَرَل سریواستو اور جسٹس گریما پرساد پر مشتمل الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے بریلی کےحسین خان سے متعلق مذکورہ  معاملہ میں  واضح ہدایات جاری کی ہیں۔یاد رہے کہ گھر پر نماز پر  پولیس ایکشن کے خلاف حسین خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیاتھا۔ جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ نےاس کا نوٹس لیتے ہوئے  انہیں ۲۴؍ گھنٹے سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا اور کارروائی کی پاداش میں ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سربراہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیاتھا۔
  کچھ ہی دنوں بعد جسٹس سری دھرن کی بنچ  کو ہٹادیاگیا اور یہ معاملہ جسٹس سرل سریواستو اور جسٹس گریما پرساد کی بنچ کو سونپ دیاگیا۔  نئی بنچ نے  انتظامیہ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے۔عرضی گزار حسین خان کے  وکیل نے  عدالت  میں یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ان  کے مؤکل کے گھر پر بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماع نہیں ہوگا۔  اس کو قبول کرتے  ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میںیقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی  اور علاقے کا امن متاثر ہوتا ہے تو انتظامیہ قانون کے مطابق کارروائی   کیلئے  آزاد ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے عرضی گزار کے خلاف کارروائی (چالان) کو بھی واپس لینے کا حکم دیا۔ 

allahabad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK