الہ آباد ہائی کورٹ نے چھ مسلم افراد کو ضمانت دے دی، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے دریائے گنگا کے کنارے چکن بریانی کھائی۔ یہ چھ افراد ان چودہ میں سے ہیں جو۱۶؍ مارچ کو سوشل میڈیا پر افطار پارٹی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔
EPAPER
Updated: May 19, 2026, 3:58 PM IST | Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نے چھ مسلم افراد کو ضمانت دے دی، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے دریائے گنگا کے کنارے چکن بریانی کھائی۔ یہ چھ افراد ان چودہ میں سے ہیں جو۱۶؍ مارچ کو سوشل میڈیا پر افطار پارٹی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے چھ مسلم افراد کو ضمانت دے دی، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے دریائے گنگا کے کنارے چکن بریانی کھائی۔ یہ چھ افراد ان چودہ میں سے ہیں جو۱۶؍ مارچ کو سوشل میڈیا پر افطار پارٹی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔جج راجیو لوچن شکلا نے پیر کو کہا کہ چودہ میں سے آٹھ افراد کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اور باقی چھ بھی اسی بنیاد پر ضمانت کے مستحق ہیں۔ ۱۵؍ مئی کو جج شکلا نے پانچ افراد کو ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے عمل پر نادم ہیں اور ان کے خاندان بھی سماج کے جذبات کو ٹھیس پہنچنے پر افسردہ ہیں۔ اسی دن جسٹس جتیندر کمار سنہا نے تین دیگر ملزمان کو ضمانت دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعلیٰ یوگی کو نماز سے تو اُن کےکابینی رفیق کو اذان سے پریشانی
واضح رہے کہ یہ تمام ملزمین ہائی کورٹ میں اس وقت پہنچے جب وارانسی کی سیشن کورٹ نےایک اپریل کو ان کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔ اس سے قبل۲۳؍ مارچ کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے بھی ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ملزمین پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات کے تحت مقدس مقام کی بے حرمتی، مذہبی جذبات ٹھیس پہنچانے، اور گروہوں کے درمیان دشمنی فروغ دینے کے الزامات ہیں۔ ان کے خلاف عوام کو تکلیف دینے، پانی آلودہ کرنے، اور حکام کے حکم کی خلاف ورزی کے مقدمات بھی درج ہیں۔ بعد ازاں کشتی مالکان کی شکایت پر ان پر اغوا اور ڈکیتی کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد اور شرجیل کیلئے اُمید، سپریم کورٹ کی اپنے ہی فیصلے پر تنقید
واضح رہے کہ ماہ رمضان میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے گنگا ندی پر ایک کشتی میں افطار کا اہتمام کیا تھا، بعد ازاں مقامی بے جے پی لیڈر نے اس الزام کے تحت کہ انہوں نے افطار میں چکن بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینک دی تھیں، جس سے اکثریتی فرقے کے جذبات مجروح ہوئے، پولیس میں شکایت درج کرائی،جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کرکے مقدمہ قائم کیا۔