Updated: May 06, 2026, 5:00 PM IST
| Mumbai
الہ آباد ہائی کورٹ نے مظفر نگر سے تعلق رکھنے والے مسلم شخص ندیم کو ’’آئی لو محمدؐ‘‘ تنازع سے جڑی انسٹاگرام پوسٹ کے معاملے میں ضمانت دی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ متنازع پوسٹ میں کسی ذات یا برادری کا براہ راست ذکر موجود نہیں تھا۔ جسٹس راجیو لوچن شکلا نے نوٹ کیا کہ ندیم تقریباً سات ماہ سے جیل میں تھا جبکہ چارج شیٹ پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے۔ ریاستی حکومت نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو اشتعال انگیز تھی اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے جڑی ہوئی تھی۔
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے مظفر نگر سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم شخص ندیم کو ’’آئی لو محمدؐ‘‘ تنازعہ سے متعلق مقدمے میں ضمانت دی، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی سطح پر زیر بحث آ گیا ہے۔ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس راجیو لوچن شکلا نے سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ متنازع انسٹاگرام پوسٹ میں کسی مخصوص ذات، برادری یا مذہبی گروہ کا براہ راست ذکر موجود نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم ندیم ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے جیل میں تھا اور اس معاملے میں چارج شیٹ پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے، جبکہ ٹرائل جلد مکمل ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۹۸۴ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ممتا بنرجی کسی آئینی عہدے پر نہیں ہیں
ریاستی حکومت نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ندیم کا ویڈیو اشتعال انگیز نوعیت کا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق ویڈیو میں ملزم نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ ’’آئی لو محمدؐ‘‘ کے نعرے کے لیے ’’اپنی اور دوسروں کی گردنیں کاٹ دے گا‘‘، جسے حکومت نے فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔ یاد رہے کہ یہ تنازعہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں اتر پردیش کے مختلف شہروں میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب کانپور کے علاقے راوت پور میں عید میلاد النبیؐ کے جلوس کے دوران ’’آئی لو محمدؐ‘‘ کے بینرز آویزاں کیے گئے۔ بعض ہندو تنظیموں نے ان بینرز پر اعتراض کیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں ہٹا دیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ کارروائی نعرے کی وجہ سے نہیں بلکہ جلوس کے روٹ کی خلاف ورزیوں کے باعث کی گئی تھی۔
بعد ازاں مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے الزامات کے تحت متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق جلوس کے دوران بعض مقامات پر مذہبی پوسٹروں کو نقصان پہنچانے اور اشتعال انگیز نعرے بازی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ بریلی میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مذہبی لیڈر مولانا توقیر رضا خان کی جانب سے بلائے گئے احتجاج کو انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ مظاہرین کے مارچ کے دوران پولیس اور شرکاء کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ حکام نے الزام لگایا کہ بدامنی ایک منظم سازش کا حصہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں نام کٹا، فارم بھرنے سے ایک دن قبل نام بحال ہوا اور مہتاب الیکشن جیت گئے
اسوسی ایشن آف پروٹیکشن آف سول رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’آئی لو محمدؐ‘‘ تنازعے سے متعلق اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں کم از کم ۲۱؍ ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ ۱۳۰۰؍ سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے۔ اسی دوران دیگر شہروں میں بھی الگ نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اہلیانگر میں رنگولی پر مبینہ اشتعال انگیز تبصروں کے بعد جھڑپیں ہوئیں، جبکہ علی گڑھ میں پولیس نے چار افراد کو مندر کی دیواروں پر ’’آئی لو محمدؐ‘‘ لکھنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام مبینہ طور پر جائیداد کے تنازعے میں مسلم پڑوسیوں کو پھنسانے کی کوشش تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ اظہار رائے، سوشل میڈیا پوسٹس اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے جڑے مقدمات میں عدالتی توازن کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔