الہ آباد ہائی کورٹ نےفارینسک سائنس لیب کو آزاد بنانے اور پولیس کو فارینسک تربیت دینے پر زو ر دیا اور مقدموں کی طوالت کیلئے پولیس کی لاپروائی کو اہم وجہ قرار دیا۔
آدتیہ ناتھ۔ تصویر:آئی این این
۱۹۹۳ء کی فلم ’دامنی‘ کے مشہور ڈائیلاگ ’تاریخ پر تاریخ‘ یہ عام آدمی کی سوچ تھی لیکن اس کیلئے صرف جوڈیشیل افسران ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ریاست اور اس کی پولیس بھی ہے کیونکہ اسٹاف،گواہوں کی موجودگی اور صحیح فارینسک سائنس لیب (ایف ایس ایل) رپورٹ یقینی بنانے کیلئے پولیس کی مدد کے بغیر جوڈیشیل افسران فیصلہ نہیں دے سکتے۔ یہ تبصرہ جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال نے فتح پور کے حسین گنج علاقہ میں ہوئے قتل معاملے میں ملزم میوا لال پرجاپتی کی ضمانت عرضی خارج کرتے ہوئے کیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریاست کے جوڈیشیل سسٹم کو مزید موثر بنانے کیلئے اہم مشورے اور رہنماہدایات بھی دیں۔ کورٹ نے کہا کہ ایف ایس ایل کو پولیس محکمہ سے الگ کرکے نجی ایجنسی بنایا جانا چاہئے، تاکہ آلات کی خریداری، جدید تکنیک مہیا کرانے اور ماہر ملازمین کی تعیناتی میں آنے والی دقتیں دور ہوسکیں۔ عدالت نے یہ بھی کہاکہ فارینسک سائنس یونیورسٹی کی اہلیت محدود ہے، اسلئے پولیس افسران کو بھی خون کے نمونے لینے اور فارینسک ثبوت جمع کرنے کی بنیادی تربیت دینے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اس پر ایف ایس ایل ڈائریکٹر نے کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ زیادہ سے زیادہ پولیس افسران کو تربیت دینے کی کوشش کی جائے گی۔ کورٹ نے مختلف اضلاع سے ملی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے زیر غور مقدموں کی ۱۴؍ اہم وجوہات بھی بتائیں۔ ان میں ٹرینڈ اورماہر کمپیوٹر ملازمین کی بھاری کمی، وکلاء کے ذریعہ بار بار اسٹے مانگنا، فائل مینجمنٹ میں بدانتظامی اور مقدموں کے ریکارڈ کا غائب یا ادھورا ہونا شامل ہے۔
عدالت نے کہا کہ نگرانی سیل کی میٹنگ میں کئی بار ضلع مجسٹریٹ، پولیس کمشنر، ایس ایس پی اور ایس پی خود حاضر نہیں ہوتے اور نمائندوں کو بھیج دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمن اور وارنٹ کی عمل آوری میں پولیس کی لاپروائی بھی مقدموں کو طویل مدت تک کھینچنے کو بڑی وجہ بن رہی ہے۔
معاملے کی سماعت کے دوران یہ سچائی سامنے آئی کہ قتل میں مستعمل خون لگا ہوا پیچکس برآمد ہو اتھا، لیکن جانچ افسر نے ڈی این اے جانچ نہیں کرائی کہ اس پر لگا خون متوفی کا تھا یا نہیں۔ جانچ کی اس سنگین غلطی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ڈی جی پی، ہوم سکریٹری اور ایف ایس ایل ڈائریکٹر کو طلب کیا تھا۔
سماعت کے دوران ایف ایس ایل ڈائریکٹر نے بتایا کہ ریاست کی ۱۲؍ لیب میں سے صرف ۸؍ میں ڈی این اے پروفائلنگ کی سہولت مہیا ہے اور وہاں بھی جدید مشینیں اور ماہر اسٹاف کی بھاری کمی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایف ایس ایل پولیس محکمہ کے تحت کام کرتا ہے اور انتظامی آزادی نہ ہونے کے سبب آلات کی خریداری اور اسٹاف کی تعیناتی میں دقت پیش آتی ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ ان حالات میں نوجوان جوڈیشیل افسران کیلئے موثر اور تیزانصاف دینا بیحد چیلنجنگ ہوجاتا ہے۔