الٰہ آباد ہائی کورٹ میں یوپی کے ۴؍ہزارسے زائدمدارس کی ای او ڈبلیو (اقتصادی جرائم ونگ) جانچ کے خلاف داخل کردہ رٹ پٹیشن پر پیرکو جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اندر جیت شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔
EPAPER
Updated: May 12, 2026, 11:01 AM IST | Inquilab News Network | Lucknow
الٰہ آباد ہائی کورٹ میں یوپی کے ۴؍ہزارسے زائدمدارس کی ای او ڈبلیو (اقتصادی جرائم ونگ) جانچ کے خلاف داخل کردہ رٹ پٹیشن پر پیرکو جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اندر جیت شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ میں یوپی کے ۴؍ہزارسے زائدمدارس کی ای او ڈبلیو (اقتصادی جرائم ونگ) جانچ کے خلاف داخل کردہ رٹ پٹیشن پر پیرکو جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اندر جیت شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔شنوائی کے دوران قومی انسانی حقوق کمیشن، نئی دہلی کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا، جس پر عدالت نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ ٹیچرس اسوسی ایشن مدارس عربیہ یوپی و دیگرکی جانب سے داخل عرضی پر عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اسوسی ایشن کی طرف سے تین دن کے اندر دستی نوٹس کمیشن کے وکیل کو فراہم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:کیفی اعظمی کی ۲۴؍ویں برسی پر محکمہ ڈاک کی جانب سےپوسٹل کو رکااجراء
عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے میں مقرر کی ہے۔ اس دوران ای او ڈبلیو جانچ سے متعلق حکم امتناع (اسٹے آرڈر) برقرار رہے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ہونے والی سماعت میں جسٹس اتل شری دھرن نے قومی انسانی حقوق کمیشن کے طرزِ عمل پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ اور دیگر ناانصافیوں پر خاموش رہنے والا کمیشن مدارس کی جانچ کیسے کرسکتا ہے جبکہ اسے اس کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کمیشن اپنے اصل فرائض انجام دینے کے بجائے سروس ٹریبونل کی طرح کام کرنا چاہتا ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تاہم، بنچ کے دوسرے جج جسٹس وویک سرن نے اس تبصرے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن کے وکیل کی غیر موجودگی میں ان کا موقف سنے بغیر ایسا تبصرہ مناسب نہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ۱۱؍مئی کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کمیشن کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا تھا، لیکن پیرکو بھی کمیشن کی جانب سے کوئی نمائندہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا جبکہ سماعت کے دوران اسوسی ایشن کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ جی کے سنگھ، وی کے سنگھ، ایڈوکیٹ پرشانت شکلا، ایچ پی شاہی اور محمد علی اوصاف پیش ہوئے جبکہ حکومت کی نمائندگی اسسٹنٹ چیف اسٹینڈنگ کونسل نے کی۔اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اور مقدمے کے مدعی دیوان صاحب زماں خاں نے عدالتی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور مدارس کو ضرور انصاف ملے گا۔