ابتدائی کامیابی کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا تیارکردہ ٹیکہ ۱۰؍ ہزار افراد پر آزمانے کافیصلہ

Updated: May 23, 2020, 4:06 AM IST | London

دوسرے مرحلے میں  ۵۵؍ سال سے زائد عمر کےافراد اور بچوں پر بھی ٹیکے کو آزمایا جائےگا، تیسرے مرحلے میں  رضاکاروں  کی تعداد میں  مزید اضافہ ہوگا، ابتدائی نتائج ستمبر تک متوقع۔

Andrew Pollard Photo: INN
اینڈریو پولارڈ۔ تصویر: آئی این این

 برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذریعہ تیار کردہ کورونا کے ٹیکےکی انسانوں  پر آزمائش میں پیش رفت کرتے ہوئے محققین اور سائنسدانوں   نے اسے ۱۰؍ ہزار انسانوں پر آزمانے کافیصلہ کیاہے۔ سائنسدانوں کی اس پیش رفت پر سمجھا جارہاہے کہ   ٹیکے کی طبی جانچ اور انسانوں  پر آزمائش کا پہلا مرحلہ کامیاب رہاہے۔ یاد رہےکہ ابتدائی تجربہ کے طور پر سائنسدانوں  نے گزشتہ ماہ ایک ہزار رضاکاروں پر اس ٹیکے کا تجربہ کیاتھا جس کی کامیابی کے بعد جمعہ کو انہوں   نے اعلان کیا کہ اب وہ ۱۰؍  ہزار ۲۶۰؍ افراد پر اسے آزمائیں گے جن میں  بوڑھے اور بچے بھی شامل ہوں گے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویکسین گروپ کے سربراہ اینڈریو پولارڈ نے بتایا کہ ’’طبی تجربہ میں  کامیابی کے ساتھ پیش رفت ہورہی ہے اور اب ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ ٹیکہ بوڑھے افرد میں  قوت مدافعت کتنا بڑھاتاہے اور یہ جاننے کی کوشش کریں  گے کہ کیا یہ آبادی کے بڑے حصے کو تحفظ فراہم کرسکتاہے۔‘‘ انہوں  نے طبی تجربہ کیلئے خود کو پیش کرنے والوں  کی پذیرائی کرتےہوئے کہا ہے کہ ’’ٹرائل کیلئے کو خود کو پیش کرنے والے رضاکاروں کے ہم مشکور ہیں جو یہ جاننےمیں  مدد کررہے ہیں کہ یہ ٹیکہ انسانیت کو کورونا کی وبا سے محفوظ رکھنے میں  کتنا کارگر ہے۔ ‘‘ یہ ٹیکے طبی تجربہ کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔ تیسرے مرحلے میں   ۱۸؍ سال سے زائد عمر کے تعداد کو بڑی تعداد میں  تجربے میں  شامل کیا جائےگا۔ فی الحال دوسرے مرحلے کے تجربےمیں  بچوں کو بھی شامل کیا جارہاہے۔ ٹیکہ تیار کرنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر سارہ گلبرٹ نے بتایا کہ ’’ٹیکے کا تجربہ کرنے والی ٹیم بڑی محنت سے اس بات کا اندازہ لگارہی ہے کہ یہ ٹیکہ کتنا محفوظ اور کامیاب ہے۔‘‘ انہوں  نے بتایا کہ۵۵؍ سال سے زائد کی عمر کے متعدد افراد نے خود کو اس تجربہ کیلئے پیش کیا ہے۔
   انہوں  نےبتایا کہ ’’یہ لوگ پہلے مرحلے میں   تجربہ میں  شامل ہونے کے اہل نہیں  تھے مگر اس مرحلے میں  ہم معمر افراد کو بھی اس شامل کرسکتےہیں ۔‘‘ یاد رہےکہ گزشتہ ہفتے دوا ساز کمپنی ’’ایسٹرا زینیکا‘‘ نے اعلان کیاتھا کہ اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاہدہ کے ۴۰؍ کروڑ ٹیکے بنانے کا حق حاصل کرلیا ہے۔ واضح رہےکہ کمپنی نے یہ قدم کورونا کے ٹیکے کے حصول کیلئے حکومت کی جانب سے اس میں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد اٹھایا ہے۔ واضح  رہے کہ دنیا بھر میں کم وبیش ۱۹؍ مقامات پر کووڈ -۱۹؍ کا ٹیکہ تیار کرنے کی کوشش ہورہی ہے مگر سب سے آگے آکسفورڈ یونیورسٹی ہی ہے جبکہ چین، امریکہ اور یورپ سمیت دیگر مقامات پر بنائے گئے ٹیکے تجربات کے ابتدائی مراحل میں  ہیں ۔ 
امریکہ نے ۳؍ ارب ٹیکے ابھی سےمختص کرلئے
  امریکہ نے برطانوی دواساز کمپنی ’’ایسٹرا زینیکا‘‘ سے پہلے مرحلے میں  ۳؍ کروڑ ٹیکے خریدنے کا ابھی سے معاہدہ کرلیاہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے ٹیکہ تیار کرنے کا حق حاصل کرنے کےبعد مذکورہ دواساز کمپنی پہلے مرحلے میں   ایک کھرب ٹیکے تیار کریگی جن میں سے ۳؍کروڑ ٹیکے امریکہ نے اپنے لئے مختص کرلئے ہیں ۔ اس کیلئے امریکہ نےکمپنی میں  ۱ء۲؍ بلین کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستان میں  یہ ٹیکہ پونے میں  واقع سیرم انسٹی ٹیوٹ بنائے گا جس نے ساری تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور صرف طبی آزمائش کے نتائج کا انتظار کررہاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK