جاپان کے بعداب پڑوسی ملک نیپال نے بھی ہندوستان سے آم درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ جانچ کے دوران آم کی بعض کھیپوں میں کیڑے مار ادویات کی مقدار مقررہ حد سے بہت زیادہ پائی گئی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
آم پر پابندی۔ تصویر:آئی این این
جاپان کے بعداب پڑوسی ملک نیپال نے بھی ہندوستان سے آم درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ جانچ کے دوران آم کی بعض کھیپوں میں کیڑے مار ادویات کی مقدار مقررہ حد سے بہت زیادہ پائی گئی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ نیپال حکومت کے مطابق یہ قدم خوراک کے تحفظ اور معیار سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ نیپالی صارفین کی صحت کا تحفظ ہے۔واضح رہے کہ پابندی نافذ ہونے سے قبل تقریباً ۱۵ء۸؍میٹرک ٹن ہندوستانی آم نیپال پہنچ چکے تھے جن کی مالیت لگ بھگ ۱۰؍کروڑ نیپالی روپے بتائی جا رہی ہے۔ اب ان کھیپوں کی جانچ اور آئندہ درآمدات کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ جاپان نے بھی ہندوستانی آموں کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ تاہم جاپان کا فیصلہ کیڑے مار ادویات کی موجودگی کی وجہ سے نہیں بلکہ معائنہ، صفائی اور کوارینٹائن سے متعلق ضابطوں میں خامیوں کے باعث کیا گیا تھا۔
جاپان کی جانب سےپابندی کی وجہ سے ہندوستان کے آموں کی معروف اقسام جن میں ہاپوس ، کیسر ،لنگڑا اوربنگاناپلی شامل ہیں، کے برآمدی کاروبار کو زبردست دھچکا پہنچا تھا۔ تقریباً دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع تھا جب جاپان نے ہندوستانی آموں کی درآمد پر پابندی عائد کی۔ دوسری جانب نیپال میں پھلوں کے تاجروں اور درآمد کنندگان نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی آم نیپالی منڈی میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں اور مختلف قسموں کےآموں کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ ان میں ہاپوس اور کیسر سب سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔