رام مندر اور ۳۷۰؍ کے بعد حکومت کا اگلا نشانہ یونیفارم سول کوڈ ہوسکتا ہے

Updated: October 17, 2020, 4:02 AM IST | Hasan Ibrahim / Md Aamir Nadvi | Lucknow

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی آن لائن میٹنگ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا،تدارک کیلئے غور خوض، سبری مالا معاملے میں مداخلت کار بننے کا بھی فیصلہ۔

Maulana Rabey Hasni Nadvi. Photo: INN
مولانا رابع حسنی ندوی۔تصویر: آئی این این

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ رام مندراور دفعہ ۳۷۰؍ کے بعدحکومت کا اگلا نشانہ یونیفارم سول کوڈ ہوسکتا ہے۔اس خدشہ کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں کیا گیا جو کہ کور ونا وبا کے سبب آن لائن منعقد کی گئی تھی۔اس تعلق سے اقدام کے طورپرسیاسی جماعتوں اور دیگر مذہبی رہنمائوں سے ملاقات کرنےکےساتھ یونیفارم سول کوڈ کے خطرہ سے نمٹنے کیلئےاہم تدابیر اختیار کرنے کے تعلق سےغورکیاگیا۔ میٹنگ میں مرکزی حکومت کی جانب سے سی آرپی سی اور آئی پی سی میں اصلاحات کیلئے قائم کردہ کمیٹی کے متعلق بھی خدشات کااظہار کرتے ہوئے ماہرین قانون اور علماءکی ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں پیش آسکنے والے کسی مسئلہ کا تدارک کیا جاسکے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی آن لائن میٹنگ دودنوں تک جاری رہی۔ میٹنگ کی صدارت بورڈ کےصدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کی اور کارروائی کوجنرل سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے چلایا۔ عاملہ کے اجلاس میں اس اندیشہ کا اظہار بھی کیا گیا کہ رام مندر، دفعہ ۳۷۰؍ کے بعد اس حکومت کا اگلا نشانہ یونیفارم سول کوڈ ہوسکتا ہے۔ مسئلہ کی نزاکت کے پیش نظر طے کیاگیاکہ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر مذہبی طبقات، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کے افرادسے تفصیلی ملاقاتیں کی جائیں نیز ایک تکثیری سماج کیلئے یونیفارم سول کوڈ کتنا مہلک اور نقصاندہ ہوسکتا ہے اس پر رائے عامہ ہموار کرنے کا مسئلہ بھی زیربحث آیا۔ یونیفارم سول کوڈ کے خطرے سے نمٹنے کیلئےجنرل سیکریٹری بورڈ کو مجازکیا گیاکہ وہ اس کیلئےایک کمیٹی بنادیں تاکہ اس پر سیرحاصل کام کیا جاسکے۔
بورڈ سابری مالا کیس میں بطورمداخلت کار شامل ہوگا
 بورڈکے اجلاس میں ملک کی عدالتوں میں مسلم پرسنل لا سے متعلق جاری مقدمات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیااور قانونی کمیٹی کو ہدایات جاری کی گئیں ۔ لیگل کمیٹی کے کنوینر یوسف حاتم مچھالا نے سابری مالا کیس کے ریویو سےمتعلق ایک تفصیلی نوٹ عاملہ کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اس میں مذہبی آزادی، دستور کی دفعہ ۲۵؍کا دائرہ اور کسی مذہب کیلئےکیا ضروری اور لازمی ہے ،جیسے سوالات زیربحث آئیں گے۔ اس فیصلے کا اثر مسلمانوں اور تمام مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اکثریتی طبقہ کی مذہبی آزادی پر بھی پڑےگا۔میٹنگ میں تفصیلی غورخوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ بورڈبھی اس مقدمہ میں بحیثیت مداخلت کار شامل ہوگا۔
سی آر پی سی اور آئی پی سی میں اصلاحات پر بھی بحث
 اجلاس میں حکومت کی طرف سے سی آرپی سی اور آئی پی سی میں اصلاحات کیلئےمرکزی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کامسئلہ بھی زیربحث آیا۔ اکثر اراکین کا خیال تھا کہ کمیٹی کی مینڈیٹ کافی وسیع الطرف ہے اور اس سے یہ اندیشہ بجاطور پر لاحق ہے کہ اس کی سفارشات بہت دور رس نتائج اور مضمرات کی حامل ہوں گی۔ ملک کے ماہرین قانون اور دانشوروں نےکمیٹی میں شامل افراد اور کمیٹی کے مینڈیٹ کے تعلق سےمتعدد اندیشوں کا اظہار کیاہے۔میٹنگ میں شامل اراکین عاملہ کا بھی یہی خیال تھا کہ مسلمان بھی ان سفارشات کی زد میں آسکتے ہیں چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ ماہرین قانون اور علماء پرمشتمل ایک کمیٹی قائم کرے اور سول سوسائٹی اور ماہرین قانون کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کے تدارک کے لیے کام کیا جائے۔
 اجلاس میں مساجد، مقابر، عیدگاہوں اور قبرستانوں سے متعلق مقدمات اور عدالتوں کے رویہ کا بھی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلےکیے گئے۔ اجلاس کی ابتدا میں جنرل سیکریٹری بورڈنےاس درمیان بورڈ کے جو اراکین،اہم دینی و ملی شخصیات انتقال کر گئی ہیں ان کیلئے تعزیت پیش کی اور صدر بورڈنے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ صدر بورڈ کی دعا اور اختتامی کلمات پر اجلاس ختم ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK