بالی ووڈ اداکار نے پرتاپ سرنائک کے سامنےکہا کہ وہ ۶؍ سال جیل میں رہنے کے باوجود مراٹھی نہیں سیکھ سکے، اس بیان پرشیوسینا اور بی جے پی میں ٹھن گئی۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 11:30 AM IST | Agency | New Delhi
بالی ووڈ اداکار نے پرتاپ سرنائک کے سامنےکہا کہ وہ ۶؍ سال جیل میں رہنے کے باوجود مراٹھی نہیں سیکھ سکے، اس بیان پرشیوسینا اور بی جے پی میں ٹھن گئی۔
بالی ووڈ اداکار سنجے دت، ریاست کے ایک انتہائی حساس اور جذباتی مسئلے یعنی مراٹھی زبان کے معاملے پر اپنے ایک تبصرے کے باعث تنازع میں گھر گئے ہیں۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب ان کے بیان پر شیو سینا کے وزیر پرتاپ سرنائک نے قہقہہ لگادیاجس کے بعد مراٹھی زبان کے حامی لیڈروں نے سنجے دت کے ساتھ ساتھ شیو سینا لیڈر کو بھی نشانے پر لے لیا ہے۔اداکار سنجے دت سنیچر کو دہی ہانڈی کے ایک پروگرام میں شریک تھے، جہاں مہاراشٹر کے ٹرانسپورٹ وزیر اور شیو سینا لیڈر پرتاپ سرنائیک نے ان سے مراٹھی زبان میں بات کرنے کی درخواست کی۔اس پر سنجے دت نے کہا’’میں نے پونے کی یروڈا جیل میں ۶؍ سال گزارے لیکن اس کے باوجود مراٹھی نہیں سیکھ سکا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے سنجے دت نے زوردار قہقہہ لگایا۔ ان کے اس تبصرے پر اس کی بغل میں ہی کھڑے پرتاپ سرنائیک بھی ہنس پڑے۔
سنجے دت کے اس بیان کے فوراً بعد مراٹھی زبان کے حامی حلقوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ تاہم معاملے نے اس وقت سیاسی رنگ اختیار کرلیا جب بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا نے پرتاپ سرنائیک کے قہقہے پر سوال اٹھایا۔مہتا نے کہا کہ اگر کوئی اداکار یہ کہتا ہے کہ اسے مراٹھی نہیں آتی اور اس بات پر ہنستا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا لیکن عام لوگوں، خصوصاً آٹو رکشا ڈرائیوروں کو مراٹھی زبان کے معاملے پر دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ مارپیٹ تک کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شیو سینا لیڈروں کے قول و فعل میں تضاد واضح ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے شیو سینا پر زبان کے نام پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے نے کہا کہ شیو سینا کو یہ بتانا چا ہئےکہ اس نے مراٹھی زبان کی ترقی اور فروغ کے لئے حقیقت میں کیا اقدامات کئے ہیں۔لونڈھے نے کہاکہ مراٹھی کو آج کلاسیکی زبان کا درجہ حاصل ہوا ہے، لیکن اس کیلئے بنیادی کام پرتھوی راج چوہان کے دور میں ہوا تھا۔