• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ۷؍ ستمبر جس نے مظفر نگر بدل دیا،۱۳؍ برس بعد بھی فسادات کے زخم اور نقل مکانی کی تلخ یادیں باقی

Updated: September 08, 2026, 1:46 PM IST | Muhammad Rizwan | Muzaffarnagar

برسوں بعد بھی ان خاندانوں کیلئے وقت وہیں ٹھہرا ہوا ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا، جن کے گھراجڑ گئے، جنہیں جان بچانے کیلئے ہجرت کرنی پڑی۔

File photo of Muzaffarnagar communal riots. Picture: INN.
مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

۷؍ ستمبر۲۰۱۳ء مظفر نگر کی تاریخ کا وہ سیاہ  دن جسے کئی دہایوں تک یہاں کی نسلیں کبھی فراموش نہ کر سکیں گی۔ ۷؍ ستمبر کو اس سانحہ کو۱۳؍ برس مکمل ہوگئے لیکن ان خاندانوں کیلئے وقت جیسے وہیں ٹھہرا ہوا ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا، جن کے گھر اجڑے، جنہیں اپنی زمینیں اور آبائی بستیاں چھوڑ کر جان بچانے کیلئے نقل مکانی کرنا پڑی اور جن کی زندگی کا معمول ایک ہی جھٹکے میں بدل گیا۔
 ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر اور آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد نے مغربی اترپردیش کے سماجی تانے بانے کو گہرا نقصان پہنچایا۔ سرکاری و مختلف معتبر رپورٹوں کے مطابق تشدد کے دوران۶۰؍سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ۵۰؍ ہزار سے زیادہ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ بڑی تعداد میں متاثرہ خاندانوں نے راحتی کیمپوں میں پناہ لی۔قابل ذکر ہے کہ اگست۲۰۱۳ء میں کوال گاؤں میں پیش آنے والے قتل کے واقعے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئےتھے۔ اس کے بعد ہونے والی سیاسی و سماجی سرگرمیوں، مہاپنچایتوں، اشتعال انگیز ماحول اور افواہوں نے حالات کو مزید حساس بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: تحفظ کیلئے امریکہ پر انحصار کافی نہیں، قطر نے خلیجی ممالک کو خبردارکیا

ستمبر کے پہلے ہفتے میں حالات تیزی سے بگڑے اور کئی علاقوں میں تشدد پھیل گیا۔۷؍ستمبر کے بعد مظفر نگر کے ساتھ شاملی اور آس پاس کے متعدد دیہی علاقوں میں بھی تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ گھروں، دکانوں اور املاک کو نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں خاندان خوف کے ماحول میں اپنے آبائی علاقوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ ان واقعات کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ جن لوگوں نے برسوں اپنے گاؤں میں زندگی گزاری تھی، انہیں اچانک یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ اپنے گھر بچائیں یا اپنی جان۔فسادات کے بعد قائم ہونے والے راحتی کیمپ ان خاندانوں کی بے بسی کی علامت بن گئے جن کے پاس واپس جانے کے لیے گھر تو تھے، لیکن وہاں رہنے کا اطمینان اور تحفظ باقی نہیں رہا تھا۔ ہزاروں خاندان کئی ہفتوں اور مہینوں تک کیمپوں میں رہے۔ان کیمپوں میں بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سردی کے موسم میں بنیادی سہولیات کی کمی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس وقت بعض راحتی کیمپوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔۲۰۱۳ء کے فسادات سے متعلق سیکڑوں مقدمات درج ہوئے اور کئی برس تک عدالتوں میں قانونی کارروائی جاری رہی۔ بعض مقدمات میں سزائیں بھی ہوئیں، لیکن متعدد مقدمات میں ملزمان کو ناکافی شواہد یا گواہوں کے منحرف ہونے کی بنیاد پر بری بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کا روڈی جیولیانی کو جواب، ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے

حالیہ برسوں میں بھی ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں۔۲۰۲۵ء  میں مظفر نگر کے ایک مقدمے میں۲۰۱۳ء کے فسادات سے متعلق دوہرے قتل کے آخری ملزم کو گواہ کے منحرف ہونے اور خاطر خواہ ثبوت نہ ملنے پر بری کیا گیا۔اسی سلسلے میں فروری۲۰۲۶ء میں کٹبا کے ایک مقدمے میں۳۷؍ ملزموں کو بھی عدالت نے ناکافی اور ناقابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر بری کردیا۔  تاہم متاثرین کے نقطۂ نظر سے ایسے فیصلے یہ سوال ضرور چھوڑ جاتے ہیں کہ کیا انہیں وہ انصاف مل سکا جس کی وہ برسوں سے امید کرتے رہے ہیں۔
 مظفر نگر کبھی ہندو مسلم کسانوں کے باہمی تعلق، مشترکہ معاشرتی زندگی اور دیہی بھائی چارے کیلئے جانا جاتا تھا۔ ۲۰۱۳ء کے واقعات نے اس رشتے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ آج بھی بعض علاقوں میں مذہبی بنیاد پر آبادی کی تقسیم اور سیاسی رویوں میں سانحہ کی پرچھائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ برسوں بعد بھی اس واقعے کی یاد نے علاقے کی سماجی اور سیاسی زندگی کو متاثر کیا ہے اور کئی مسلم خاندان اپنے سابقہ گاؤں میں واپس نہیں لوٹ سکے۔۷؍ستمبر ہر سال صرف ایک تاریخ بن کر نہیں آتا بلکہ یہ ان خاندانوں کی یادیں بھی ساتھ لاتا ہے جنہوں نے اس سانحہ کی قیمت اپنی جان، گھر، زمین، روزگار اور رشتوں کی صورت میں ادا کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK