جمعیۃ علماء اور دیگرسماجی، فلاحی و سیاسی تنظیمیں کتابچہ کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گی۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 1:53 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
جمعیۃ علماء اور دیگرسماجی، فلاحی و سیاسی تنظیمیں کتابچہ کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع ہوں گی۔
۲۸؍اگست کو مہاراشٹر میں تبدیلیٔ مذہب قانو ن نافذ کردیا گیاہے جس کے بعد ریاستی حکومت نے مذکورہ قانون کا کتابچہ بھی عوامی سطح پر عام کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ قانون کے خلاف ایک طرف اقلیتی طبقے میں شدید ناراضگی اور غم و غصہ پایا جارہا ہے تو دوسری طرف مذکورہ قانون کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر اور ملّی ، سماجی ، فلاحی اور سیاسی تنظیمیں قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کررہی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس کتابچہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد جلد ہی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیاجائے گا ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ تبدیلیٔ مذہب قانون مہاراشٹر حکومت سے قبل ۱۲؍ ریاستوں میں نافذ کیا جاچکاہے اور اسے جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) کے علاوہ عیسائی ، سماجی، فلاحی اور ملّی تنظیموں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مذکورہ عرضداشت کا جائزہ لینے اور اس پر شنوائی کرنے سے قبل ۱۲؍ ریاستوں کی حکومتوں اور ان کے متعلقہ محکموں کو نوٹس دیا ہے اور اس ضمن میں اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۷؍ سال میں قرض داروں کی تعداد ۱۲؍ سے ۲۸؍کروڑ ہوگئی، کانگریس کی شدید تنقید
گزشتہ ماہ مہاراشٹر میں تبدیلیٔ مذہب قانون نافذ کرنے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نےکہا کہ ’’ جس طرح کی شقوں کا مذکورہ قانون میں ذکر کیا گیا ہے ، قانونی ماہرین کے مطابق وہ ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی ہے اورمیں یہ سمجھاتا ہوں کہ یہ قانون نہ صرف مسلم بلکہ ہندو، دلت اور دیگر اقلیتی طبقہ کو ہراساں کرنے کیلئے لایا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کی سربراہی میں جن ۱۲؍ ریاستوں میں مہاراشٹر سے قبل تبدیلیٔ مذہب کا قانون نافذ کیا گیا ، اس وقت سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ وہیں اب مہاراشٹر میں بھی ہم جلد ہی بامبے ہائی کورٹ میں اس قانون کو چیلنج کریں گے۔‘‘
عیسائی بھی تبدیلیٔ قانون کے نفاذ سے انتہائی فکر مند ہیں ۔اس ضمن میں پادری سیم میتھائی نے کہا کہ ’’گزشتہ ۶؍ ماہ میں وسئی ، ویرار ، پال گھر ، نالا سوپارہ ، بھائندر اور بھیونڈی میں ۱۱؍ گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور عیسائیوں پر حملہ کیا گیا ۔ ہم پر اکثر یہ الزام لگایاجاتا ہے کہ ہم لوگوں کو تبدیلیٔ مذہب کرنے پراکساتے ہیں ۔‘‘اس تعلق سے کرسچن ڈیولپمنٹ اسوسی ایشن کے صدراور بھانڈوپ چرچ کے پادری تری بھون کا کہنا ہے کہ’’ ملک کی مختلف ریاستوں میں ہمارے کئی تعلیمی ادارے ہیں جہاں مختلف مذاہب کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اگر ہم جبراً کسی کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر آمادہ کرتے تو ہماری آبادی میں اضافہ صاف نظر آتا لیکن نہ تو گزشتہ ۷۰؍ برس میں ہماری آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہم کسی کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔‘‘
ونچت بہو جن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈ کر نے بھی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والےاس قانون کیخلاف جلد ہی ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا یقین دلایا ہے۔