حجاب تنازع پر۱۰؍دنوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

Updated: September 23, 2022, 10:06 AM IST | new Delhi

طالبات کے وکلاء نے حکومت کی جانب سے دئیے گئے دلائل پر کئی سنگین سو ال اٹھائے ،کہا گیا کہ یہ پابندی ہندوتوا وادیوں کے سامنے جھکنے اور دھمکانے کے برابر ہے

Supreme Court of India
سپریم کورٹ آف انڈیا

: تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعہ لگائی گئی پابندی کے خلاف داخل عرضیوں پر جمعرات کو سپریم کورٹ میں دسویں دن بھی سماعت ہوئی اور اس کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ ان ۱۰؍دنوں میں دونوں فریقین کی طرف سے کئی دلائل پیش  کئے گئے لیکن آج آخری دن مسلم طالبات کے وکلاء نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ دلائل پر کئی طرح کے سوالات کھڑے  کئےاور کہا کہ کرناٹک حکومت نے متعدد اہم سوالوں  کے جواب ہی نہیں دیئے بلکہ بات کو گھمانے کی کوشش زیادہ کی ۔
 جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ کے سامنے مسلم طالبات کی طرف سے پیش وکیل دُشینت دَوے نے پی ایف آئی کا ایشو بھی اٹھایا اور کہا کہ سرکاری سرکیولر میں کہیں بھی  پی ایف آئی کا ذکر نہیں تھا لیکن سالیسٹر جنرل نے جان بوجھ کر اس کا تذکرہ کیا اور اگلے دن میڈیا کی سرخی بن گئی۔  دوے کے دلائل پر جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ اس سرکیولر میں یونیفارم کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس گپتا نے اے ایس جی نٹراج سے کہا کہ بنچ اس معاملے میں وضاحت چاہتی ہے۔ جواب میں اے ایس جی نے کہا کہ میں قانونی پہلو پر بات کروں گا کیوں کہ گائیڈ لائنز کوئی حق نہیں دیتیں۔     اس پر  جج نےدُشینت دَوے سے پوچھا کہ آپ کا کیا کہنا ہے،   دَوے نے جواب دیا کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ حجاب پر کبھی اعتراض نہیں ہوا۔ پہلے یونیفارم اس طرح لازمی نہیں تھا جیسا کہ اب کیا جارہا ہے۔ اس طرح حجاب پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔طالبات کی طرف سے پیش ایک اور دیگر وکیل حذیفہ احمدی نے بھی کرناٹک حکومت کی طرف سے پیش کردہ دلائل میں خامیاں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی دلیلوں میں یہ نہیں بتا پائی کہ مسلم لڑکیوں کے ذریعہ حجاب پہننے سے کس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی؟ پبلک آرڈر اور لاء آرڈر پر کیسے اثر ہوا؟ جب کسی لڑکی نے حجاب پہنا تو کوئی دوسرا کیوں مشتعل ہوا؟ یہ مشورہ کہ یہ عوامی نظام کا ایشو ہے، بچکانہ ہے، یہ پریشر گروپس جیسے کہ ہندوتوا وادیوں کے آگے جھکنے اور دھمکانے کے برابر ہے۔ان کے بعد سینئر وکیل سلمان خورشید نے بھی کچھ دلائل پیش  کئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے گائے کی قربانی، طلاق ثلاثہ، رام مندر پر فیصلہ کا ذکر کرتے ہوئے دلیلیں دی گئی ہیں جبکہ قرآن میں ان کا ذکر ہی نہیں ہوا ہے۔  سلمان خورشید نے کہا کہ حکومت کی طرف سے عدالت میں حجاب پر پابندی کو لے کر فرانس اور ترکی کا حوالہ دیا گیا جبکہ فرانس میں تو آپ کراس بھی نہیں دکھا سکتے۔ 

 سلمان خورشید کے مطابق سپریم کورٹ کو مذہب کو بغیر رکاوٹ ماننے کی آزادی کے آرٹیکل ۲۵؍ کے تحت حقوق کو متوازن کرنے کے لئے ضروری مذہبی رسوم کو پرکھنے کا حق ہے۔ حالانکہ حجاب آرٹیکل ۵۱؍اے کا ایشو ہے، اور ہم بتا چکے ہیں کہ اس  آرٹیکل کے تحت مشترکہ ثقافت اپنانے کا نظام ہے۔سلمان خورشید کے مطابق اتنی واضح ہدایات کے باوجود ملک کے ثقافتی تنوع کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔جمعرات کو  جب بحث ختم ہوئی تو معروف وکیل سنجے ہیگڑے نے داغ دہلوی کا مشہور شعر پڑھا۔ بہرحال، سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی سے متعلق فیصلہ بھلے ہی محفوظ رکھ لیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اگر اب بھی کوئی تحریری شکل میں دلیلیں پیش کرنا چاہتا ہے، تو دے سکتا ہے۔ بتا دیں کہ حجاب معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہو چکی ہے ، اب فیصلہ کاانتظار ہے۔

hijab Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK