• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مسجدکی تعمیر اور افتتاح  کے بعد اب ہمارا گاؤں مکمل ہوگیا‘‘

Updated: December 09, 2025, 3:17 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مالیر کوٹلہ کے عمرپورہ گاؤں میں مدینہ مسجد کی تعمیر سے جتنے خوش مسلمان ہیں اتنی ہی خوشی کا اظہارسکھ برادران بھی کررہے ہیں۔

Shahi Imam of Punjab Muhammad Usman Ludhianvi addressed the ceremony held on the occasion of the inauguration of the mosque on Sunday. Sikh brothers were also present on the occasion. Picture: INN
اتوار کو مسجد کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب میں پنجاب کے شاہی امام محمد عثمان لدھیانوی نے خطاب کیا۔اس موقع پر سکھ برادران بھی موجود تھے۔ تصویر:آئی این این
پنجاب کے ضلع  مالیر کوٹلہ کے عمر پورہ گاؤں میں  پہلی مسجد کی تعمیر اور اس کے افتتاح  کے بعد گاؤں کے مسلمان جتنے خوش ہیں،اتنے ہی خوش سکھ برادران بھی ہیں جن کی عطیہ کردہ زمین پر مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے۔ گاؤں کے سابق سرپنچ سُکھ جندر سنگھ  جنہوں نے مسجد کیلئے زمین عطیہ کی ہے، نے مسجد میں باجماعت نمازوں کا اہتمام شروع ہونے پرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے  پیر کو نمائندہ انقلاب سے فون پر گفتگو کی۔ انہوں  نے  کہا کہ ’’ مسجد بن جانے سے اب ہمارا گاؤں مکمل ہوگیا ہے۔ ‘‘ یاد رہے کہ  عمر پور گاؤں  میں مسلمانوں کیلئے مسجد نہیں تھی جس کی بنا پر نماز کی ادائیگی لئے انہیں دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا۔ اس کمی سکھ بھائیوں نے محسوس کیا اور گاؤس کے سابق  سرپنچ سکھ جندر سنگھ نونی  نےمسجد کی تعمیر کیلئے سڑک کنارے اپنی   ۶؍ ایکڑ زمین  جو مالی اعتبار سے کافی قیمتی ہے، عطیہ کردی۔اس کے ساتھ ہی سکھ بھائیوں نے مسجد کی تعمیر کیلئے ۵؍لاکھ روپے کا تعاون  بھی کیا۔  (اس کی  پہلی تفصیلی خبر ۱۵؍ جنوری کے انقلاب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد مسجد کے تعمیری کام سے متعلق کئی فالو اپ خبریں شائع کی گئیں اور تعمیر مکمل ہونے اور مسجد  کے افتتاح کی خبر گزشتہ روز ۸؍ دسمبر  کے شمارہ میں شائع ہوئی۔)
اتوار ۷؍ دسمبر کو پروقار تقریب میں  پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان لدھیانوی کی موجودگی میں مدینہ مسجد کے افتتاح کے دوسرے  دن بھی گاؤں میں جشن کا ماحول  ہے۔ گاؤں کے مسلمانوں نے مسجد کو اپنے سجدوں سے آباد کیا اور اپنے پالنہار کی بڑائی بیان کی۔ اس طرح اب عمر پورہ گاؤں میں بھی رحمٰن کی کبریائی کی صدا پابندی سے بلند ہونے لگی ہے، جس سے اب تک یہ گاؤں محروم تھا۔ 
مدینہ مسجد کے افتتاح اور مقامی مسلمانوں کی کیفیت کے تعلق سے پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان لدھیانوی نے نمائندہ انقلاب  سے فون پر گفتگو  میں بتایا کہ’’ مختلف معاملات میں پنجاب کی اپنی الگ پہچان ہے، اس میں یہاں کا مثالی بھائی چارہ سب سے اہم ہے ، پنجاب کی مٹی میں بھائی چارے کی خوشبو ہے۔ پنجابی مسلمانوں کا بھی  مزاج یہ ہے کہ وہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہاں کے ہندو، سکھ اور عیسائیوں کا بھی کچھ ایسا ہی  مزاج ہے۔ ‘‘ انہوں  نے بھائی چارے کی نمایاں مثال یہ کہتے ہوئے دی کہ کسی گاؤں میں اگر کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ نہ ہو تو وہاں کے رہنے والے گاؤں کو ادھورا محسوس کرتے ہیں۔ 
شاہی امام کے  مطابق ’’اس طرح کا ماحول بنانے اور بھائی چارہ قائم رکھنے کی مسلسل کوشش کی گئی اور  اس میں کامیابی  ملی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ افتاد ہو یا خوشی کا موقع ، یہ کیفیت دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے، اس طرح کا منظر عمرپورہ گاؤں کی مسجد کے افتتاح کے وقت مسلم، ہندو اور سکھ بھائیوں کی موجودگی سے اور دوسرے دن بھی نظر آیا۔  ‘‘
 
مدینہ مسجد کے افتتاح  میں گاؤں اور آس  پاس کے مسلمانوں نے شرکت کی۔
 
 مسجد کیلئے زمین عطیہ کرنےاور مالی مدد کرنےوالے سکھ بھائی اور مسلمان۔
 
 اتوار کو عصر کے وقت مسجد کے افتتاح کے موقع پر اکٹھا ہونےوالے افراد۔
 
مسجد کی تعمیر کی نگرانی کرنے والے قاری محمد فرقان نے بتایاکہ’’ لوگ بہت خوش ہیں ۔ اتوار کو افتتاح کے دن تو ایسا لگ رہا تھا گویا عید کا دن ہو، نوجوان، بچے اور بوڑھے نئے کپڑے پہن کر  پہنچے تھے۔ صرف مسلمان ہی نہیں دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی مسجد پہنچے  اوراس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔  دوسرے دن بھی خوشی کی وہی کیفیت  ہے۔ ‘‘ قاری فرقان  نے مزید بتایا کہ ’’ مدینہ مسجد میں اندر۵؍ صفوں کی گنجائش ہے ، ایک صف میں ۲۳؍نمازی آتے ہیں۔ ۵؍ صف اندر اور ۲؍ صف کی گنجائش  باہر  ہے، اس طرح بیک وقت ۱۲۵؍ مصلی آسانی نے  باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔‘‘عمر پورہ گاؤں کے رہنے والے سلیم خان نے بتایا کہ ’’مسجد کی تعمیر سے ہم لوگوں کو جو خوشی ہوئی ہے اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ ہمارے گاؤں میں آج تک مسجد نہیں تھی اس کا بہت قلق تھا ، اللہ پاک نے اب یہ خواہش پوری فرمادی ۔ ‘‘ انہوں نے پیر کو مسجد میں نماز ادا کرنےکیلئے پہنچنے والوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’سردی کا موسم ہونے کے باوجود فجر اور عشاء میں بھی بڑی تعداد میں مصلی  پہنچے۔ لوگ جوش وخروش کے ساتھ مسجد کا رخ کررہے ہیں۔‘‘مسجد کیلئے زمین عطیہ کرنے والے سکھ جندر سنگھ نونی نے انقلاب سے گفتگو میں  اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئےکہاکہ ’’مسجد بن جانے سے اب ہمارا گاؤں مکمل ہوگیا۔ سبھی خوش ہیں مگر ہمیں زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے گاؤں کے مسلم بھائیوں کو اب نماز ادا کرنے دوسرے گاؤں نہیں جانا پڑے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK