تھانے سے تعلق رکھنے والی ثمینہ ایچ امدانی سوشل ورکر ہیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی سے ماسٹر آف سوشل ورکر کی ڈگری حاصل کی ہے۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 3:08 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai
تھانے سے تعلق رکھنے والی ثمینہ ایچ امدانی سوشل ورکر ہیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی سے ماسٹر آف سوشل ورکر کی ڈگری حاصل کی ہے۔
تھانے سے تعلق رکھنے والی ثمینہ ایچ امدانی سوشل ورکر ہیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی سے ماسٹر آف سوشل ورکر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ فی الحال وہ کے ای ایم ایس ہاسپٹل (تھانے) میں بحیثیت منیجر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے ذمے کمیونٹی مارکیٹنگ اور کاروباری انتظام کو سنبھالنا ہے۔ وہ سماجی طور پر فعال ہیں۔ روبن ہوڈ آرمی، این ای ایس ایچ، جن جاگروتی جیسے این جی اوز سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ رمضان میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’رمضان میں معمولات بدل جاتے ہیں۔ اللہ کا ذکر اور عبادت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دنوں اسپتال میں ۲؍ ایونٹس تھے جن میں ہیلتھ ٹاک، سی پی آر ٹریننگ وغیرہ دی جانے والی تھی۔ اس دوران مجھے مسلسل کھڑے رہنا پڑا۔ ایونٹ کے سارے امور بھی دیکھنے تھے۔ چونکہ اسی دوران گرمی میں اضافہ ہوگیا تھا تو روزہ میں جسم نڈھال ہوگیا تھا۔ لیکن اللہ نے طاقت اور ہمت دی اور روزہ مکمل ہوا۔ ہمارے اسپتال میں ایسے متعدد اسپورٹس اور ملٹی اسپیشلٹی کیمپ کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے روزانہ ایک نئی شروعات کرنی پڑتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: راحیلہ عقیل باپے روزہ رکھ کردو ڈھائی سو افراد کیلئے افطار کی اشیاء تیار کرتی ہیں
عام طور پر ثمینہ کام کے دوران روزہ کھولتی ہیں۔ وہ کام کے سلسلے میں فیلڈ پر بھی رہتی ہیں۔ انہیں متعدد میٹنگز میں بھی شرکت کرنی پڑتی ہے۔ اس دوران عبادت بھی جاری رہتی ہے۔ وہ بائیک رائیڈر بھی ہیں، فلائنگ اسکوائڈ انڈیا موٹر سائیکل کلب کی ممبر ہیں۔ ایک رمضان کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ، ’’افطار کے لئے ایک جگہ پہنچنا تھا، راستہ میں میری بائیک اسکڈ ہوگئی اور مَیں گر گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے بہت زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ مَیں خود ہی اٹھی اور طے شدہ جگہ پر پہنچی اور روزہ کھولا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ روزہ میں انسان کو بے پناہ طاقت دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے کام انجام دے پاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یاسمین اویس ٹیچروں کو ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ روزہ بھی رکھتی ہیں
ثمینہ امدانی اپنے معمر والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔ منیجر کے فرائض کے ساتھ ساتھ گھر کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک مشورہ بھی دیا ہے کہ روزہ کا اصل مقصد بھوک اور پیاس کا احساس کرنا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو روزہ کی اصل روح کو قائم رکھنا چاہئے۔ افطار اور سحری کے وقفہ کے دوران مسلسل کھاتے رہنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق روزہ جسم کو ’صاف‘ کرتا ہے جبکہ زکوٰۃ ہماری دولت کو۔ اس لئے ان فرائض کو بہتر انداز میں پورا کرنا چاہئے۔