اسمبلی انتخابات کے پیش نظر زرعی قوانین واپس لئےگئے

Updated: November 30, 2021, 8:01 AM IST | New Delhi

ملک ارجن کھڑگے نے ایوان میں زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل منظور کرنے کی تجویزکی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج سے خوفزدہ ہے،مایاوتی نے اسے جمہوریت اور کسانوںکی جیت قراردیا ، راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ میںبحث سے ڈ رتی ہے

Rahul Gandhi
راہل گاندھی

کانگریس نے پیر کو راجیہ سبھا میں الزام لگایا کہ حکومت نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تینوں زرعی  قوانین کو واپس لیا ہے۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے ایوان میں زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل۲۰۲۱ء  منظور کئے جانے کی تجویزکی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج سے خوفزدہ ہے۔ حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی تجویز پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے پاس کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک سال اور تین ماہ کے بعدحکومت کو `’گیان ‘ حاصل ہوگیاہے۔
 کھڑگے نے کہا کہ کسان تحریک کے دوران۷۰۰؍ کسانوں کی موت ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا ہر رکن کسان تحریک کی حمایت میں ہے۔اگلے سال کے آغاز میں پانچ ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔حال ہی میں کئی ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کو  بی جے پی کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
کسانوں کو راحت ملی : مایاوتی 
  بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے متنازع زرعی قوانین کی واپسی کو کسانوں کے لیے  راحت اور جمہوریت کی جیت قرار دیا ہے۔ مایاوتی نےسوشل میڈیا پراپنی ایک پوسٹ  میں کہاکہ ملک میں کسانوں کے ایک سال کے شدید احتجاج کے نتیجے میں، آج(پیرکو) پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تین انتہائی متنازع زرعی قوانین کی واپسی‘  سے جہاںکسانوں کوتھوڑی  راحت ملے گی  وہیں یہ ملک کی جمہوریت کی اصل جیت ہے۔ یہ تمام حکومتوں کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ ایوان کے اندر اور باہر جمہوری طریقے سے کام کریں۔
 انہوں نے کہاکہ ملک کے کسانوں کے مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے، خاص طور پر فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت کو یقینی بنانے کے مطالبے پر مرکز کی خاموشی اب تک برقرار ہے۔ اس پر بھی مرکز کی جانب سے مثبت پہل کی ضرورت ہے تاکہ کسان خوشی خوشی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
 مایاوتی نے ایک دیگر پوسٹ میں کہا کہ مرکزی حکومت کو دوبارہ سے احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت شروع کرنی چاہئے اور ملک میں کھیتی اور کاشتکار خاندانوں کی حقیقی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کے لیے صحیح پالیسی طے کرنی چاہئے تاکہ ہر جگہ ایک نیا سبز انقلاب آئے۔ ملک میں اس سے کسانوں کی زندگی خوشگوار ہو سکتی ہے۔
بی جے پی کی ہٹ دھرمی کے سبب سیکڑوں کسان شہید ہوئے
 بی ایس پی کے راجیہ سبھا رکن ستیش مشرا نے مایاوتی کے ’کُو‘ کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے کہاکہ ’بی جے پی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سیکڑوں مشتعل کسانوں کو شہید کر دیا گیا۔ آج، تینوں متنازع زرعی قوانین کی واپسی جمہوریت کی ایک حقیقی فتح ہے اور اسکے ساتھ ہی بی جے پی کی  آمرانہ حکومت کی ناکامیوں میں ایک بڑی مثال ہے۔ پورے ملک نے دیکھا کہ کسانوں کو سردی، گرمی اور بارش میں کس طرح نظر انداز کیا گیا اور پریشان کیا گیا۔ستیش مشرا نے کہا کہ انتخابات سے عین قبل ایسا کرنا بی جے پی کے دوہرے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
 حکومت پارلیمنٹ میں بحث سے ڈرتی ہے: راہل
 کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں واپس  لئے جانے کو کسانوںکی جیت قرار دیا ہے لیکن کہا کہ بغیر بحث کرائے قوانین واپس لے کر حکومت نے یہ واضح کردیا کہ پارلیمنٹ میں بحث سے اسے ڈر لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب حکومت نے زراعت سے متعلق قوانین کو واپس لے لیا تو انہیں بحث کرانے سے کیا ڈر تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو معلوم تھا کہ اس نے غلط کیا ہے، اس لیے وہ پارلیمنٹ میں اس قانون پر بحث کرانے سے ڈرتی تھی اور اس پر بحث نہ کرانے کامتبادل چن کر ان قوانین کو واپس لے لیا۔
 انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ حکومت نے کسانوں کی طاقت کے سامنے جھک کر زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کی پارٹی اس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہے تاکہ یہ بھی پتہ چل سکے کہ ان قوانین کو لانے کے پیچھے کون سی طاقت تھی۔وہ تین، چار سرمایہ دار کون ہیں جو اس قانون کے پیچھے سختی سے کھڑے تھے تاکہ ان قوانین کے ذریعے کسان کی محنت پر ہاتھ  مارا جائے۔
 راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں سے معافی مانگی تھی۔ وزیر اعظم کے عوام سے معافی مانگنے سے  واضح  ہے کہ انہوں نے غلطی مان لی ہے کہ وہ۷۰۰؍کسانوں کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی اپنی غلطی  تسلیم کر رہے ہیں، اس لئے انہیں اب کسانوں کو معاوضہ دینا چاہئے۔
 یہ بھی بتا دیں کہ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے پیر کو سرمائی اجلاس کے پہلے دن زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے الگ الگ مظاہرے کیے تھے اور حکومت مخالف نعرے لگائے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK