• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولمبیا میں ’ اے آئی‘ پارلیمانی الیکشن میں اُمیدوار

Updated: February 23, 2026, 9:55 AM IST | Ai Candidate In Colombia Parliamentary Elections | کولمبیا میں ’ اے آئی‘ پارلیمانی الیکشن میں اُمیدوار

’’گایتانا‘‘مقامی برادریوں  کیلئے مختص نشست پر مقابلہ کرے گی۔

AI-generated candidate ‘Gaetana’. Photo: INN
اے آئی سے تیار کی گئی امیدوار’گایتانا‘۔ تصویر: آئی این این

کولمبیا میں  ۸؍ مارچ۲۶ء کو ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں   مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی اوتار جس کا نام’ گایتانا‘ رکھا گیا ہے بھی امیدوار ہوگی۔ وہ قومی اسمبلی میں مقامی (انڈیجنس) برادریوں کیلئے مختص نشستوں میں سے ایک پر مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ 
’’ایِل کولومبیانو‘‘ نامی اخبار کے مطابق گایتانا انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے بنایا گیا ایک ڈجیٹل اوتار ہے۔ یہ منصوبہ سیاسی اور تکنیکی تجربے کے طور پر تیار کیا گیا ہے تاکہ ڈجیٹل ذرائع کے ذریعے مقامی برادریوں کی آواز کو بلند کیا جا سکے۔ اے آئی اوتار کو امیدوار بنانے کا مقصد کولمبیا کی پارلیمنٹ جو ’کانگریس‘ کہلاتی ہے، میں مقامی برادریوں کی علامتی نمائندگی ہے۔ 
اسے ۱۶؍ویں صدی کی ایک مقامی لیڈر سے موسوم کیا گیا ہے جس نے اسپین کے نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ اس طرح اس اے آئی اوتار کو تاریخی اور ثقافتی اہمیت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ اسے الیکشن میں امیدوار بنانے کے منصوبے میں   شامل افراد کا کہنا ہے کہ اس تجربے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ مصنوعی ذہانت سیاسی شرکت، پالیسی کی وضاحت اور کمیونٹی سے رابطے جیسے عمل کو کس طرح بہتر بنا سکتی ہے خاص طور پر اُن گروہوں کیلئے جو نمائندگی میں  کمی کا شکار ہیں۔ 
واضح رہے کہ کولمبیا کے آئین میں مقامی برادریوں کیلئے کانگریس میں مخصوص نشستیں مختص ہیں۔ عام طور پر یہ نشستیں مقامی تنظیموں سے وابستہ امیدواروں سے پُر کی جاتی ہیں۔ اس بار اے آئی اوتار کو علامتی طور پر یا باضابطہ طور پر انتخابی عمل میں شامل کرنے کی کوشش نے قانونی، اخلاقی اور سیاسی نمائندگی کے مستقبل پر بحث چھیڑ دی ہے۔ کولمبیا کے انتخابی قوانین کے مطابق امیدوار کا انسان ہونا ضروری ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوتار خود امیدوار ہے یا کوئی انسانی نمائندہ اوتار کوصرف انتخابی مہم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے جدت کا مظہر قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس بات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا تکنالوجی کو جمہوری عمل میں اتنی براہِ راست مداخلت کرنی چاہیے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK