Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی این جی مہنگی ہونے سے ڈرائیوروں میں ناراضگی

Updated: May 30, 2026, 11:33 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ایک مرتبہ پھر سی این جی کی قیمت میں ۲؍روپے کے اضافے پرڈرائیوروں کا کرایہ بڑھانے کا مطالبہ ،لاکھوں مسافروں کیلئے سفر مہنگا ہوسکتاہے

Rickshaw drivers have demanded a fare hike. (File photo)
رکشاڈرائیوروں نے کرایہ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ ( فائل فوٹو)

مہانگر گیس لمیٹڈ (ایم جی ایل) کی جانب سے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمت میں ۲؍ روپے فی کلو گرام اضافہ کرنے سے سنیچر کو شہر ومضافات میں ٹیکسی ، آٹو رکشا، اولا، اوبیر اور سی این جی ٹیمپو کے ڈرائیوروں میں شدید ناراضگی ، غصہ اور مایوسی نظر آئی ۔ ان ڈرائیوروں نےکہا کہ اگر اسی طرح ایندھن کی قیمتیں بڑھتی رہیں اور کرایہ میں اضافہ نہیں کیا گیاتو ہمارے لئے جینا محال ہو جائے گا ۔ ہم اپنے اہل خانہ کی کفالت کیسے کریں گے ؟
 واضح رہے کہ ایم جی ایل نے ۲۹؍ اور ۳۰؍مئی کی درمیانی شب سی این جی کی قیمت میں ۲؍روپے کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے اب اس کی قیمت ۸۶؍روپے فی کلوگرام ہوگئی ہے جبکہ گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کی قیمت میں ۵۰؍ پیسے فی اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر (ایس سی ایم ) کا اضافہ کیا ہے جس سے گھریلو پی این جی کی قیمت ۵۲؍ روپے فی ایس سی ایم ہوگئی ہے ۔اس اضافے سے شہر ومضافات کے متعدد سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔ اس سے قبل، ۱۳؍ مئی کو، ایم جی ایل نے سی این جی کے نرخ میں ۲؍روپے فی کلو گرام کا اضافہ کیا تھا ۔ 
 ملنڈ کے محمد شریف خان نے انقلاب کو بتایا کہ ’’میرے پاس ۳؍ آٹورکشا ہیں ، ابھی کچھ دنوں پہلے ہی ایم جی ایل نے سی این جی کی قیمت میں اضافہ کیا تھا ، اس کے بعد جمعہ اورسنیچر کی شب اچانک پھر ۲؍روپے بڑھادیاہے جس سے ڈرائیوروں کیلئے گاڑی چلانا مشکل ہوگیا ہے ۔ جہاں ایک طرف سی این جی کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب کرایہ وہی ہے جو ۲؍سال پہلے تھا ۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر کرایہ نہیں بڑھایا جاتا ہے تو ڈرائیوروںکی پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔‘‘
  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’میرے ڈرائیور شکایت کر رہے ہیںکہ سی این جی مہنگی ہونے سے رکشاکا کرایہ دینے میں دقت ہو رہی ہے ۔ وہ اپنی جگہ درست کہہ رہے ہیںلیکن میرے لئے بھی مسئلہ ہے رکشا کا مینٹیننس ، بینک کی قسط اور دیگر سرکاری فیس میں اضافہ ہونے سے کرایہ کم نہیں کرسکتا ہوں ۔ ایسے میں یونین کو چاہئے کہ وہ حکومت سے آٹو رکشاکے کرایہ میں اضافہ کرنےکی بات چیت کرے۔ ویسے بھی کرایہ بڑھائے ہوئے ۲؍سال ہوگئےہیں۔‘‘
 جنوبی ممبئی کے ٹیکسی ڈرائیور محمد عرفان نے کہاکہ ’’ سی این جی کی قیمت میں بار بار اضافے سے ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ مسافروں کے کرایوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اگر ایندھن کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو ہم اپنی روزی کیسے کمائیں گے؟ ہمیں اپنا گھر چلانا ہے ۔‘‘
 ایک اور ڈرائیور نے کہا ’’ہم جو کچھ کما رہے ہیں وہ سی این جی میں جا رہا ہے۔ سی این جی سستی ہونی چاہئے، یہ اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ ہمیں اب مسائل کا سامنا ہے۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو بھوکا رہنا پڑے گا کیونکہ ہم جیسے لوگوں کیلئے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
 ایم جی ایل کی وضاحت 
 ایم جی ایل کے مطابق ’’گیس کی خریداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ضروری ہے ۔ کمپنی نے گھریلو قدرتی گیس کی کمی، مہنگی متبادل گیس کے ذرائع پر بڑھتے ہوئے انحصار اور ہندوستانی روپے کی قدر میں کمی کو قیمت بڑھانے کے پیچھے کلیدی وجوہات قرار دیا ۔‘‘ اضافے کے باوجود، ایم جی ایل کا کہنا ہے کہ سی این جی سب سے زیادہ کفایتی ایندھن ہے جو پیٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میںکم قیمت پر دستیاب ہے۔ 
آٹورکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا 
کرایہ پر نظر ثانی کا مطالبہ 
 سی این جی کی قیمت میں متواتر اضافے نے ٹیکسی اور آٹو رکشا کے کرایوں میں نظر ثانی کے مطالبات کی تجدید کی ہے۔ پچھلے اضافے کے بعد، ٹرانسپورٹ یونینوں نے حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ایک روپے فی کلومیٹر کرایہ میں اضافے کی منظوری د یں ۔
 سی این سی مہنگاہونے سے لاکھوں مسافروں پر اـثر پڑنے کا امکان
 تازہ ترین اضافے سے ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے لاکھوں یومیہ مسافروں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ مستقبل میں کرایوں میں کوئی بھی ترمیم آٹو رکشا اور ٹیکسی استعمال کرنے والے مسافروں کیلئے سفری اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK