• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی ایک ارب اموات کا سبب بننے والے واقعات کو جنم دے سکتی ہے: بل گیٹس

Updated: September 28, 2026, 5:07 PM IST | New York

مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف ٹیکنالوجی ماہر شخصیت بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے ایک سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہوا تو یہ ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہے جن میں ایک ارب افراد تک کی ہلاکت واقع ہوسکتی ہے۔

Bill Gates. Photo: INN
بل گیٹس۔ تصویر: آئی این این

مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف ٹیکنالوجی ماہر  شخصیت بل گیٹس  نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے ایک سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہوا تو یہ ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہے جن میں  ایک ارب افراد تک کی ہلاکت  واقع ہوسکتی ہے۔ گیٹس نے حکومتوں سے اے آئی کی ترقی اور استعمال کے لیے مضبوط حفاظتی نظام، نگرانی اور قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔
بل گیٹس نے  این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ بدنیتی رکھنے والے افراد جدید اے آئی ٹولز کا استعمال کرکے انتہائی تباہ کن واقعات پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق، انسانوں کے غلط ارادوں اور جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا امتزاج ماضی کی کسی بھی خطرناک ٹیکنالوجی کے مقابلے میں غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔
گیٹس نے اے آئی کمپنیوں کی جانب سے صرف  رضاکارانہ طور پر اپنے لیے حفاظتی اصول بنانے کے تصور کو ناکافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاست دانوں کو بھی اے آئی کے حفاظتی اقدامات اور نگرانی کے نظام میں شامل ہونا چاہیے اور ان حفاظتی تقاضوں کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی صنعت کے لیے ایسے ضابطے کچھ اضافی انتظامی بوجھ ضرور پیدا کرسکتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ٹیکنالوجی کی ترقی کو مکمل طور پر روکنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کے خطرناک استعمال کی روک تھام کے لیے مناسب نگرانی موجود ہو۔

یہ بھی پڑھئے:ملائیشیا: سابق وزیر اعظم مآثیر محمد کی اہلیہ سیتی حسما کا ۱۰۰؍ سال کی عمر میں انتقال

اے آئی کو کسی خطرناک مرحلے تک پہنچنے پر بند کرنے کے لیےکِل سوئچ  کے تصور کے بارے میں سوال پر گیٹس نے کہا کہ صرف کِل سوئچ کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق  اے آئی کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اصل ضرورت پہلے سے حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا نظام قائم کرنے کی ہے۔ گیٹس نے اے آئی کے بین الاقوامی ضابطے کے معاملے کو جوہری ہتھیاروں سے متعلق عالمی کوششوں سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کو قابو میں رکھنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہوگی اور یہ مسئلہ بعض پہلوؤں سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق، اے آئی کے معاملے میں ٹیکنالوجی نجی شعبے سے تیزی سے آگے بڑھی ہےجبکہ حکومتوں کے پاس اس کے انتہائی جدید اور خطرناک استعمال کی نگرانی کے لیے مطلوبہ تکنیکی مہارت ہر جگہ موجود نہیں۔ اسی لیے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔  بل گیٹس نے اگرچہ اے آئی کے خطرات پر سخت تشویش ظاہر کی ہے، تاہم وہ ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد سے بھی انکار نہیں کرتے۔ حالیہ گفتگوؤں میں انہوں نے کہا ہے کہ مناسب انتظام اور مساوی رسائی کی صورت میں اے آئی صحت، تعلیم، زراعت اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نیشنل فلم ایوارڈز میں ممّوٹی کے روایتی استقبال پر تنقید

ستمبر میں روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گیٹس نے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت اے آئی سے آنے والی سماجی تبدیلیوں کے لیے مکمل طور پر تیار نظر نہیں آتی۔ اسی دوران ان کی فاؤنڈیشن نے اگلے دو برسوں میں اے آئی کے ذریعے تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں کام کو وسعت دینے اور مختلف زبانوں میں اے آئی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ایک ارب ڈالر  خرچ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ گیٹس نے حالیہ مہینوں میں اے آئی کے باعث  ملازمتوں میں تبدیلی، سائبر حملوں، دھوکہ دہی، حیاتیاتی ہتھیاروں اور بچوں کی فلاح و بہبود  سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ اگست میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا تھا کہ اے آئی انسانوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ٹیکنالوجی ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے فوائد خود بخود یقینی نہیں ہوں گے اور اس کے نقصانات کو محدود کرنے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔ بل گیٹس کی تازہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں فرنٹیئراے آئی  یعنی جدید ترین اے آئی ماڈلز کی ترقی، حفاظتی معیار اور حکومتی نگرانی پر بحث جاری ہے۔ کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور ماہرین بھی اے آئی کے ممکنہ خطرات پر عالمی معیارات اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر بات کر رہے ہیں، جبکہ بعض حکومتی حلقے زیادہ سخت ضابطوں کے اثرات اور ٹیکنالوجی کی مسابقت پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔بل گیٹس کی ایک ارب اموات  سے متعلق بات ایک ممکنہ انتہائی سنگین منظرنامے کے بارے میں ان کی وارننگ ہے، نہ کہ مستقبل میں ہونے والی اموات کی کوئی پیش گوئی یا یقینی تخمینہ۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات، نگرانی، قانون سازی اور بین الاقوامی تعاون  کو بھی آگے بڑھایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK