Updated: July 31, 2026, 8:04 PM IST
| New Delhi
ریسرچ اور ایڈوائزری فرم گارٹنر (Gartner) کی نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۹ءتک رازداری (پرائیویسی) سے متعلق زیادہ تر واقعات ذاتی معلومات (PII) کے چوری یا لیک ہونے کے بجائے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی جانب سے افراد کے بارے میں نکالے گئے اندازوں (AI-generated inferences) کی وجہ سے پیش آئیں گے۔
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این
ریسرچ اور ایڈوائزری فرم گارٹنر (Gartner) کی نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۹ءتک رازداری (پرائیویسی) سے متعلق زیادہ تر واقعات ذاتی معلومات (PII) کے چوری یا لیک ہونے کے بجائے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی جانب سے افراد کے بارے میں نکالے گئے **اندازوں (AI-generated inferences) کی وجہ سے پیش آئیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ نے ہندوستان میں تاریخ رقم کی، کئی ریکارڈ توڑے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنریٹو اے آئی اور مشین لرننگ میں تیز رفتار ترقی کے باعث سائبر حملہ آور اب عام، گمنام یا مجموعی نوعیت کے ڈیٹا سے بھی کسی شخص کی صحت، رویے اور دیگر حساس معلومات کا اندازہ لگانے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی فرد کا ذاتی ڈیٹا براہِ راست لیک نہ بھی ہو، تب بھی اے آئی اس کے بارے میں اہم اور حساس نتائج اخذ کر سکتا ہے۔
گارٹنر کے نائب صدر اور تجزیہ کار بارٹ ولیمسن نے کہا کہ دنیا اب ’’ڈیٹا ایکسپوژر‘‘ سے ’’انسائٹ ایکسپوژر‘‘ کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کمپنیاں زیادہ تر ذاتی معلومات کی حفاظت پر توجہ دیتی رہی ہیں، لیکن اے آئی روایتی سیکوریٹی نظام کو توڑے بغیر بھی افراد کے بارے میں انتہائی نجی معلومات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
اے آئی کے اندازے مستقبل کا بڑا خطرہ
رپورٹ کے مطابق مستقبل میں پرائیویسی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ صرف ڈیٹا کے لیک ہونے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ اے آئی کسی شخص کے بارے میں کیا نتائج اخذ کرتا ہے۔گارٹنر نے خبردار کیا کہ ’’انفرنس اٹیک (Inference Attacks) خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ انہیں روایتی سائبر سیکوریٹی نظام کے ذریعے شناخت کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ان حملوں میں کسی فرد کا ڈیٹا براہِ راست چوری نہیں ہوتا، بلکہ اے آئی ایسے پروفائل یا نتائج تیار کرتا ہے جو اس کی رازداری اور معلومات کی درستگی کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ انہیں سمجھنا، شناخت کرنا اور روکنا بھی آسان نہیں ہوتا۔
کمپنیوں کو نئی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ۲۰۲۸ء تک کمپنیاں ڈیٹا کی رازداری پر جتنا خرچ کریں گی، تقریباً اتنی ہی سرمایہ کاری ڈیٹا کی درستگی (Data Integrity) کو یقینی بنانے پر بھی کریں گی، کیونکہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے غلط، جانبدارانہ یا غیر مجاز پروفائلز کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ گارٹنر نے کہا کہ جو ادارے اب بھی پرائیویسی کو صرف ڈیٹا سیکوریٹی کا مسئلہ سمجھتے ہیں، وہ آنے والے برسوں میں اے آئی پر مبنی انفرنس حملوں کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے ویٹ لفٹنگ میں ایک گولڈ سمیت کل آٹھ تمغے جیتے
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کمپنیاں اپنی پرائیویسی حکمت عملی میں اے آئی گورننس کو شامل کریں اور ڈیفرینشل پرائیویسی، سنتھیٹک ڈیٹا جیسی جدید ٹیکنالوجیز اپنانے کے ساتھ ساتھ کم سے کم ڈیٹا جمع کرنے، سخت رسائی کنٹرول نافذ کرنے اور بروقت غیر ضروری ڈیٹا حذف کرنے جیسے اقدامات کریں، تاکہ اے آئی پر مبنی اندازوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکے۔