Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپین میں تارکینِ وطن کا بحران: مراکش سے ہزاروں افراد سیوٹا پہنچے، ملٹری طلب کرلی گئی، ۳۴ ہلاک

Updated: July 31, 2026, 8:02 PM IST | Madrid

اچانک بڑےپیمانے پر تارکین وطن کی آمد نے مقامی حکام اور استقبالی مراکز کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کوشش کے دوران کم از کم ۳۴ تارکینِ وطن ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر اموات ڈوبنے کی وجہ سے ہوئیں کیونکہ تارکینِ وطن تیز لہروں کے درمیان سرحدی لہر شکن کے گرد تیر کر جانے کی کوشش کررہے تھے۔

Photo: X
سیوٹا پہنچنے والے دراندازوں کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس

افریقی ملک مراکش سے ہزاروں افراد اسپین کے زیر ملکیت علاقے سیوٹا (Ceuta) میں داخل ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں دیکھی جانے والی سب سے بڑی پیش قدمی کے دوران ہزاروں افراد مراکش سے سرحد پار کی اور سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں۔ اسپین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے اندر ۴۹۰۰۰ سے زیادہ افراد سیوٹا پہنچے۔ دوسرے ذرائع کے مطابق، یہ تعداد ۶۰ ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ 

اس بڑےپیمانے پر تارکین وطن کی آمد نے مقامی حکام اور استقبالی مراکز کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کوشش کے دوران کم از کم ۳۴ تارکینِ وطن ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر اموات ڈوبنے کی وجہ سے ہوئیں کیونکہ تارکینِ وطن تیز لہروں کے درمیان سرحدی لہر شکن کے گرد تیر کر جانے کی کوشش کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ:۱۴۰؍ فٹ بال میدانوں کے برابر لگی جنگل کی آگ جوہری تنصیبات تک پہنچی

سانچیز کا دورہ، اسپین نے فوج تعینات کردی

ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے وزیرِ داخلہ فرنانڈو گرانڈے-مارلاسکا کے ساتھ، صورتِ حال کا جائزہ لینے کیلئے جمعہ کے روز سیوٹا کا دورہ کیا۔ اسپین نے ساحلی سائلین کا گشت کرنے اور سول گارڈ کیلئے کمک کے طور پر فوجی اہلکار، اضافی فضائی اور بحری اثاثے اور غوطہ خوروں کی ٹیمیں تعینات کی ہیں، حالانکہ حکومت نے ابھی تک قومی ہنگامی صورتِ حال کا اعلان نہیں کیا ہے۔

بحران کا پس منظر

افریقہ کے شمالی ساحل پر واقع ہسپانوی شہر سیوٹا اور میلیلا (Melilla)، افریقہ کے ساتھ یورپی یونین (EU) کی واحد زمینی سرحد ہے۔ مراکش ان میں سے کسی بھی علاقے پر اسپین کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اس تازہ ترین پیش قدمی کی حوصلہ افزائی کی ہوگی کہ سمندر میں پکڑے گئے تارکینِ وطن کو خود بخود مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا، اگرچہ ابھی تک کسی سرکاری وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال: فرقہ وارانہ تشدد میں شدت، ۳؍ ہلاک، کرفیو، وزیر اعظم کی امن کی اپیل

اسپین اور یورپ میں سیاسی اثرات

اس بحران نے اسپین کے اندر سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ قدامت پسند اور شدید دائیں بازو کی جماعتوں نے سانچیز حکومت پر سرحد کو محفوظ بنانے میں ناکامی کا الزام لگایا۔ حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ اٹلی نے شینگن (Schengen) کھلی سرحد کے نظام کے پہلوؤں پر نظرِ ثانی کرنے جیسے ”غیر معمولی اقدامات“ کا امکان ظاہر کیا ہے جبکہ اسپین نے ایسے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے یورپی یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین نے اپنی بارڈر ایجنسی فرنٹیکس (Frontex) کے ذریعے تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ایلون مسک نے اسپین میں تارکینِ وطن پر ڈاکیومنٹری شیئر کیا

اسپین کے تارکینِ وطن کے بحران کے درمیان، ایلون مسک نے ایکس پر یورپی ملک کی ہجرت سے متعلق پالیسیوں پر مبنی ایک ڈاکومنٹری شیئر کی۔ یہ ڈاکیومنٹری ”اسپین میں تارکین وطن کی یلغار“ کے تناظر میں بنائی گئی تھی۔ نیتھن فریڈمین کی میزبانی میں بننے والی یہ ڈاکیومنٹری، ۵ لاکھ تارکینِ وطن کو دستاویزات کے بغیر قانونی حیثیت دینے کے ہسپانوی حکومت کے فیصلے کا جائزہ لیتی ہے۔ اس میں ووکس (Vox) پارٹی کے اراکین کے انٹرویوز شامل ہیں۔ یہ ڈاکیومنٹری قانونی حیثیت دینے کے اقدام کے پیچھے سیاسی مقاصد، عوام کی حفاظت کے خدشات مثلاً بارسلونا میں چاقو زنی کے ایک واقعے، راول جیسے محلو ں میں آبادیاتی تبدیلیوں، اور تارکینِ وطن کے اسپین آنے کی وجوہات کے بارے میں ان کے اپنے بیانات پر محیط ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK