Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس: ٹیلیگرام کے پاویل دوروف ’’دہشت گرد اور انتہا پسند‘‘ افراد کی فہرست میں شامل

Updated: July 31, 2026, 8:34 PM IST | Mascow

روس کی سرکاری مالیاتی نگرانی کی ایجنسی روس فِن مانیٹرنگ (Rosfinmonitoring) نے ٹیلیگرام کے بانی پاویل دوروف کو اپنی ’’دہشت گردوں اور انتہا پسندوں‘‘ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ اقدام روسی سیکوریٹی ادارے ایف ایس بی کی جانب سے دوروف پر دہشت گردی میں معاونت کے الزامات عائد کیے جانے اور انہیں بین الاقوامی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کرنے کی کارروائی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔

Pavel Durov. Photo: INN
پاویل دوروف۔تصویر: آئی این این

روس نے ٹیلیگرام کے بانی اور چیف ایگزیکٹو پاویل دوروف کے خلاف اپنی کارروائی مزید سخت کرتے ہوئے انہیں سرکاری طور پر ’’دہشت گردوں اور انتہا پسندوں‘‘ کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ روس کی مالیاتی نگرانی کی ایجنسی روس فِن مانیٹرنگ (Rosfinmonitoring) نے کیا، جس کے بعد دوروف پر روسی قوانین کے تحت مالی اور قانونی پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں۔ اس سے قبل روسی وفاقی سیکوریٹی سروس (FSB) نے دوروف پر دہشت گرد سرگرمیوں میں معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے اور انہیں بین الاقوامی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایف ایس بی کا دعویٰ ہے کہ ٹیلیگرام انتظامیہ نے روسی حکام کی متعدد درخواستوں کے باوجود ایسے چینلز، چیٹس اور بوٹس کو حذف نہیں کیا جو، روس کے مطابق، یوکرینی انٹیلی جنس اداروں، دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے روس کے اندر حملوں، تخریب کاری، قتل اور دھوکہ دہی کی منصوبہ بندی اور رابطوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: اگر آج انتخاب ہوئے تو حزب اختلاف حکومت بنانے کا اہل: پول

روس کے مواصلاتی ریگولیٹر روس کوم نادزور (Roskomnadzor) کے مطابق ٹیلیگرام کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد درخواستیں بھیجی گئیں تاکہ مبینہ غیر قانونی مواد ہٹایا جائے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔ دوسری جانب پاویل دوروف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیلیگرام نے غیر قانونی مواد کی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر اقدامات کیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ روسی حکومت ان پر دباؤ ڈال کر انٹرنیٹ پر مزید کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستانی حکام سے پی او کے میں انٹرنیٹ خدمات بحالی کا مطالبہ

رپورٹس کے مطابق دوروف، جو روسی نژاد ہونے کے ساتھ فرانسیسی اور متحدہ عرب امارات کی شہریت بھی رکھتے ہیں، اس وقت دبئی میں مقیم ہیں۔ روسی قوانین کے تحت ان پر عائد الزامات ثابت ہونے کی صورت میں انہیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم ان کی ممکنہ حوالگی کئی قانونی اور سفارتی پیچیدگیوں سے مشروط ہوگی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس یوکرین جنگ کے دوران انٹرنیٹ اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی نگرانی مزید سخت کر رہا ہے۔ اگرچہ ماضی میں روس نے ٹیلیگرام پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ ایپ آج بھی روس میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، حتیٰ کہ سرکاری اداروں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے بھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK