• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی ماڈلز اب بیشتر اعلیٰ سائنسدانوں سے زیادہ ذہین ہوچکے ہیں: سیم آلٹ مین

Updated: November 03, 2026, 2:05 PM IST | Abu Dhabi

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز اب بیشتر اعلیٰ سائنس دانوں سے زیادہ ذہین ہوچکے ہیں اور وائٹ کالر ملازمتوں کے بڑے حصے انجام دینے کی صلاحیت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ ابوظہبی میں ایک عالمی توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں اے آئی انسانی سائنس دانوں کی ذہانت کا مقابلہ نہیں کرپارہی تھی، لیکن چند ماہ میں صورت حال بدل گئی ہے۔

Sam Altman. Image: INN
سیم آلٹ مین۔ تصویر: آئی این این

امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے یہ بیان ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقدہ ’ابوظہبی انٹرنیشنل پیٹرولیم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس‘ (ADIPEC) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آلٹ مین کے بقول، ’’اس سال کے آغاز میں اے آئی زیادہ تر ہمارے ذہین ترین سائنس دانوں جتنی قابل نہیں تھی، لیکن اب وہ زیادہ تر سائنس دانوں سے زیادہ ذہین ہے۔‘‘ آلٹ مین نے اپنی بات کو صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں رکھا بلکہ دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتوں میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سال کے آغاز میں مصنوعی ذہانت وائٹ کالر ملازمتوں کے بہت سے کام انجام دینے کے قابل نہیں تھی، لیکن اب وہ ان ملازمتوں کے بیشتر حصوں میں کام کرسکتی ہے۔ وائٹ کالر ملازمتوں سے مراد عموماً ایسے پیشے ہیں جن میں دفتری امور، تجزیہ، تحقیق، انتظامی ذمہ داریاں، مالیاتی خدمات، مشاورت اور معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنا شامل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی

تاہم آلٹ مین نے یہ نہیں کہا کہ تمام پیشہ ورانہ ملازمتیں مکمل طور پر اے آئی کے حوالے کردی جانی چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی کے باوجود مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار انسانوں ہی کے پاس رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق، ’’یہ انتہائی ضروری ہے کہ لوگ مستقبل کے کنٹرول میں رہیں۔ یہ اختیار اے آئی کے حوالے نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی آہستہ آہستہ اسے یہ فیصلہ کرنے دینا چاہیے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کے لیے تیار کیا گیا ایک آلہ ہونا چاہیے، نہ کہ انسان اس ٹیکنالوجی کی خدمت کرنے لگیں۔ اوپن اے آئی سربراہ نے تسلیم کیا کہ اس ٹیکنالوجی کے اثرات عالمی معیشت اور روزگار کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں لاسکتے ہیں اور اس بارے میں لوگوں کی تشویش بھی فطری ہے۔ ان کے خیال میں معاشرہ اس تبدیلی سے مطابقت پیدا کرلے گا اور ملازمتوں کے طریقۂ کار کو نئی صورت حال کے مطابق ڈھال لے گا۔ تاہم ان کا بیان اس بحث کو بھی تیز کرتا ہے کہ اگر اے آئی تحقیق، تجزیے، تحریر اور دیگر ذہنی کاموں میں انسانی ماہرین سے آگے نکلنے لگے تو مستقبل میں ملازمتوں کی نوعیت، تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی قدر کس طرح تبدیل ہوگی۔

آلٹ مین نے اے آئی کی ترقی کے ساتھ اس کی حفاظت اور انسانی اقدار سے مطابقت (AI Safety and Alignment) کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق جیسے جیسے یہ نظام زیادہ ذہین اور طاقت ور ہوتے جائیں گے، یہ ثابت کرنا بھی زیادہ ضروری ہوگا کہ انہیں محفوظ طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے اور وہ ایسے فیصلے نہیں کریں گے جو انسانوں یا معاشرے کے لیے سنگین خطرہ بن جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی صنعت کو دنیا کو اس بات کا اعتماد دلانا ہوگا کہ وہ کسی بڑے حفاظتی یا الائنمنٹ بحران سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کررہی ہے۔ کانفرنس میں آلٹ مین نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی ایک بڑی رکاوٹ کی نشان دہی بھی کی: بجلی اور توانائی کی فراہمی۔ ان کے مطابق کمپیوٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ، زیادہ طاقت ور ماڈلز اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اے آئی کی ترقی کی رفتار اور اس کی دستیابی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ دنیا اس کے لیے کتنی توانائی فراہم کرسکتی ہے۔ ان کے بقول، سافٹ ویئر اور مشینوں کی کارکردگی میں مزید بہتری ممکن ہے، لیکن توانائی کی ضرورت ایک حقیقی طبعی حد ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

آلٹ مین نے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کا اندازہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر فی کس ٹوکن کے استعمال کی مقدار ۶؍ سال پہلے تقریباً صفر تھی، جو اب بڑھ کر اوسطاً ماہانہ تقریباً 1 لاکھ ٹوکن تک پہنچ گئی ہے۔ ٹوکن اے آئی نظام میں متن اور دیگر معلومات کی پروسیسنگ کی بنیادی اکائی ہے۔ ان کے مطابق بڑے ادارہ جاتی صارفین میں بعض ایسے بھی ہیں جو ہر ماہ تقریباً ۵۰۰؍ ارب ٹوکن استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے نوجوانوں میں تقریباً ۸۰؍ فیصد ہر ہفتے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اسی کانفرنس کے موقع پر اوپن اے آئی نے متحدہ عرب امارات کی ٹیکنالوجی کمپنی G42 اور سرکاری تیل کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے ساتھ شراکت داریوں کا اعلان کیا۔ اس تعاون کے تحت اوپن اے آئی کے جدید ترین ماڈلز کو توانائی کے شعبے میں استعمال کیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق یہ کسی توانائی کمپنی کے آپریشنز میں اوپن اے آئی کے جدید ترین ماڈلز کی پہلی عالمی سطح کی تعیناتی ہوگی۔ منصوبے کا مقصد پیچیدہ صنعتی نظاموں کو سمجھنے، بڑے مسائل کا تجزیہ کرنے اور توانائی کے شعبے میں جدت اور کارکردگی بڑھانے کے لیے اے آئی سے مدد لینا ہے۔ 

آلٹ مین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں کے مستقبل، انسانی مہارتوں کی اہمیت اور ٹیکنالوجی پر اختیار کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ان کا دعویٰ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی جانب اشارہ ضرور کرتا ہے، لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ بیشتر سائنس دانوں سے زیادہ ذہین ہونے کا بیان ان کا اپنا عمومی جائزہ ہے، کسی آزاد سائنسی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تقابلی درجہ بندی یا ایک متفقہ پیمانے پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ اس کے باوجود ان کی گفتگو کا اہم پہلو یہ ہے کہ اے آئی کی ترقی کو صرف ذہانت اور رفتار سے نہیں بلکہ انسانی اختیار، حفاظت، توانائی اور معاشی اثرات کے تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK