• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی

Updated: November 02, 2026, 4:01 PM IST | Berlin

بلغاریہ کے صدارتی انتخاب میں یوکرین کو فوجی امداد دینے اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات جیسے معاملات اہم موضوعات رہے، جبکہ ایگزٹ پولز میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا کو واضح برتری حاصل ہے۔

Iliana Iotova. Photo: X
الیانا یوتووا۔ تصویر: ایکس

بلغاریہ کی قائم مقام صدر الیانا یوتووا اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اپنے مغرب نواز حریف آندرے گیوروف کے مقابلے میں فیصلہ کن کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔ ایگزٹ پولز کے مطابق انہیں واضح برتری حاصل ہے۔ پانچ بڑی پولنگ ایجنسیوں کی جانب سے مکمل کیے گئے متوازی ووٹوں کے تخمینوں میں یوتووا کے حصے میں ۶ء۵۶؍ سے ۲ء۵۸؍ فیصد ووٹ آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آندرے گیوروف کو ۶ء۳۸؍ سے ۶ء۴۰؍ فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ گیوروف نے صوفیہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نتائج کو قبول کرتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی حیران کن کیوں نہ ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی مہم تو ختم ہو رہی ہے، لیکن ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

بلغاریہ کی سوشلسٹ پارٹی (بی ایس پی) سے طویل عرصے سے وابستہ یوتووا نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پہلے مرحلے کے مقابلے میں اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں انہیں ۷۶ء۳۴؍ فیصد ووٹ ملے تھے، جبکہ گیوروف ۹۵ء۳۱؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ یوتووا کی انتخابی مہم میں یوکرین کو مزید ہتھیار فراہم نہ کرنے پر زور دیا گیا اور اس کے بجائے سفارتی حل کے ذریعے امن قائم کرنے کی حمایت کی گئی۔ یہ مؤقف ان کے حریف کے نقطۂ نظر سے مختلف تھا۔ یہ انتخاب اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد منعقد ہو رہا ہے، جن میں سابق صدر رومین رادیف کی قیادت میں پروگریسو بلغاریہ نے قومی اسمبلی کی ۲۴۰؍ میں سے ۱۳۱؍ نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ یوتووا اس سے قبل رومین رادیف کی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ رادیف نے جنوری میں استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد یوتووا نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ پروگریسو بلغاریہ نے پانچ سالہ مکمل صدارتی مدت کے لیے ان کی امیدواری کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ٹرمپ کا ہتک عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج

بلغاریہ کے مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر آندرے گیوروف نے انتخابی مہم کے دوران خبردار کیا تھا کہ یوتووا کی کامیابی سے ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدے پر حقیقی توازن باقی نہیں رہے گا، کیونکہ پروگریسو بلغاریہ پہلے ہی حکومت پر کنٹرول رکھتی ہے۔ یورپی یونین اور سلامتی سے متعلق پالیسیوں کے معاملے میں گیوروف نے حکومت کی ہچکچاہٹ، یوکرین کی حمایت میں کمی اور نیٹو و یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ رابطہ کاری میں سست روی پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل نے بلغاریہ کو زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے اور اسے اتحاد کے مشرقی محاذ پر ایک کمزور کڑی میں تبدیل کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK