Updated: May 03, 2026, 3:10 PM IST
| Raipur
ایمس رائے پور اور دیگر اداروں کی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو زیادہ اسکرین ٹائم دینا ان کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ماہرین نے خاص طور پر ایک سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے اور ۳؍ سال تک محدود یا مکمل اجتناب کی سفارش کی ہے۔ تحقیق کے مطابق اسکرین ٹائم اور Autism Spectrum Disorder جیسی علامات کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے، تاہم اسے براہ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا۔
ایمس رائے پور اور دیگر تحقیقی اداروں کے ماہرین نے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین کو سخت احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ابتدائی عمر میں ڈجیٹل اسکرینز کی نمائش بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اور بعض صورتوں میں Autism Spectrum Disorder جیسی علامات کے امکانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین کے سامنے لانا خاص طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، جبکہ ۱۸؍ ماہ سے کم عمر بچوں کے لیے مکمل طور پر اسکرین سے پرہیز کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح ۳؍ سال کی عمر سے پہلے اسکرین ٹائم کو انتہائی محدود یا مکمل طور پر ختم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی قدرتی سیکھنے کی صلاحیت متاثر نہ ہو۔
تحقیق کے دوران ۵؍ سال سے کم عمر کے ۲؍ ہزار ۸۵۷؍ بچوں کا میٹا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ بچوں کا اوسط اسکرین ٹائم روزانہ تقریباً ۲۲ء۲؍ گھنٹے تھا۔ یہ مدت عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تجویز کردہ حد سے تقریباً دوگنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چھوٹے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کو کم سے کم رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔ محققین نے مزید بتایا کہ والدین اکثر اسکرین کا استعمال بچوں کو مصروف رکھنے، ان کی توجہ ہٹانے یا غصہ کم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ طریقہ وقتی طور پر آسانی فراہم کرتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے اثرات منفی ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر زبان سیکھنے، سماجی تعامل اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
مطالعے میں آٹزم کے شکار ۱۵۰؍ بچوں اور ۵۰؍ ایسے بچوں کا جائزہ لیا گیا جو روایتی طریقے سے پل بڑھ رہے ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ جن بچوں میں آٹزم کی علامات پائی گئیں، ان میں کم عمری میں اسکرین کی نمائش زیادہ تھی۔ تاہم، محققین نے واضح کیا کہ یہ تعلق محض ایک وابستگی ہے، اسے براہ راست وجہ نہیں کہا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق آٹزم ایک نیورو ڈیولپمنٹل حالت ہے جو بچے کی مواصلاتی اور سماجی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں آنکھوں سے رابطہ نہ کرنا، بولنے میں تاخیر، اور پہلے سیکھی گئی مہارتوں کا ختم ہونا شامل ہو سکتا ہے۔ چونکہ ابتدائی بچپن دماغی ترقی کے لیے نہایت اہم مرحلہ ہوتا ہے، اس لیے اس دوران غیر ضروری اسکرین ایکسپوژر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کہیں سرکار کا’’ ای ۸۵؍‘‘ پیٹرول کا منصوبہ سنگین آبی بحران کا سبب نہ بن جائے!
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ مطالعہ کراس سیکشنل نوعیت کا تھا، یعنی ایک مخصوص وقت پر ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، اس لیے طویل مدتی اثرات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ براہ راست بات چیت، کھیل اور جسمانی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔ اسکرین کو بطور سہولت استعمال کرنے کے بجائے اسے محدود اور کنٹرولڈ طریقے سے استعمال کیا جائے۔ یہ تحقیق ایک اہم وارننگ کے طور پر سامنے آئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں توازن رکھنا بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔