ہندوستان کی دو بڑی فضائی کمپنیوں ایئر انڈیا اور انڈیگو کے نمائندے ۲؍ نومبر۲۰۲۶ء کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس اجلاس میں شہری ہوا بازی کے شعبے سے متعلق سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی دو بڑی فضائی کمپنیوں ایئر انڈیا اور انڈیگو کے نمائندے ۲؍ نومبر۲۰۲۶ء کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس اجلاس میں شہری ہوا بازی کے شعبے سے متعلق سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
ہندوستان کی دو بڑی فضائی کمپنیوں ایئر انڈیا اور انڈیگو کے نمائندے ۲؍ نومبر۲۰۲۶ء کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس اجلاس میں شہری ہوا بازی کے شعبے سے متعلق سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق، پارلیمنٹ کی ۲۲؍ رکنی پبلک انڈرٹیکنگز کی قائمہ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے فضائی کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت طے کی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بیجینت پانڈا کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رِچا چڈھا نے ’’مسافری‘‘ میں ممبئی کے مالیاتی دارالحکومت بننے کے سفر کا سراغ لگایا
ایئر انڈیا لمیٹڈ اور انڈیگو کی سرپرست کمپنی انٹرگلوب ایوی ایشن لمیٹڈ کے نمائندے ۲؍ نومبر کو کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ اسی روز طیارہ حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے، ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) اور شہری ہوا بازی کی سلامتی کے بیورو (BCAS) کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔کمیٹی کے اجلاس کا بنیادی موضوع شہری ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ مرکزی سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔ تاہم، جاری کردہ اطلاع میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ایئر انڈیا اور انڈیگو سے کن مخصوص معاملات پر سوالات کیے جائیں گے یا اجلاس کا تفصیلی ایجنڈا کیا ہوگا۔
ہندوستان میں فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر، فضائی کمپنیوں کی کارکردگی، مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات، پروازوں کے انتظام اور ہوا بازی کی سلامتی جیسے معاملات اس شعبے کے اہم پہلو ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے اس جائزے سے فضائی کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کے کام کاج کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، اگرچہ ان موضوعات پر بحث ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ایئر انڈیا پہلے سرکاری ملکیت میں تھی، لیکن جنوری ۲۰۲۲ءمیں اسے ٹاٹا گروپ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب انڈیگو، انٹرگلوب ایوی ایشن کے تحت کام کرتی ہے اور ہندوستانی فضائی سفر کی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے۔ دونوں کمپنیوں کے نمائندوں کو ایک ہی اجلاس میں بلایا جانا شہری ہوا بازی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی کے جائزے کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کپتانی چھوڑنے کے بعد کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں: ہرمن پریت
اجلاس میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو اور شہری ہوا بازی کی سلامتی کے بیورو کی شرکت بھی طے ہے۔ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو طیاروں کے حادثات اور سنگین واقعات کی تحقیقات کرتا ہے، جبکہ شہری ہوا بازی کی سلامتی کا بیورو فضائی سفر سے متعلق حفاظتی انتظامات اور سلامتی کے معیارات کی نگرانی کرتا ہے۔ ان اداروں کی شرکت سے کمیٹی کو ہوا بازی کے شعبے میں سلامتی اور حادثات کی تحقیقات سے متعلق امور پر معلومات حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، ان معاملات پر اجلاس میں کس حد تک گفتگو ہوگی، اس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
مجموعی طور پر۲؍ نومبر کا پارلیمانی اجلاس ہندوستانی شہری ہوا بازی کے شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہوگا۔ ایئر انڈیا، انڈیگو اور ہوا بازی کی سلامتی سے متعلق اداروں کے نمائندوں کی شرکت سے کمیٹی کو متعلقہ اداروں کے کام کاج کے بارے میں معلومات ملنے کی توقع ہے۔ اجلاس کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ کمیٹی نے کن امور پر توجہ دی اور کیا سفارشات پیش کیں۔