فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں دورانِ پرواز شدید جھٹکوں کے باعث طیارے کے تقریباً ۳۰۰؍فٹ نیچے گرنے کے واقعہ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرواز کے پائلٹ کا مبینہ طور پرماریجوانا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi
فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں دورانِ پرواز شدید جھٹکوں کے باعث طیارے کے تقریباً ۳۰۰؍فٹ نیچے گرنے کے واقعہ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرواز کے پائلٹ کا مبینہ طور پرماریجوانا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں دورانِ پرواز شدید جھٹکوں کے باعث طیارے کے تقریباً ۳۰۰؍فٹ نیچے گرنے کے واقعہ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرواز کے پائلٹ کا مبینہ طور پرماریجوانا (Cannabis) کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ رپورٹس میں متعدد ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ایئر انڈیا نے ابھی تک پائلٹ کے ٹیسٹ کے مثبت نتیجے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایئرلائن نے بتایا ہے کہ واقعہ کے بعد عملے کی اسکریننگ کی گئی تھی، لیکن اس ٹیسٹ کے نتائج ایئر انڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کیے گئے۔
پرواز میں کیا ہوا تھا؟
یہ واقعہ ۴؍ اگست۲۰۲۶ءکو پیش آیا، جب ایئر انڈیا کا ایئربس اے ۳۲۰؍ طیارہ فوکٹ سے دہلی جا رہا تھا۔ پرواز کے دوران ادیشہ کے اوپر طیارے کو شدید ٹربولنس کا سامنا کرنا پڑا اور طیارہ اچانک تقریباً ۳۰۰؍ فٹ نیچے گر گیا ۔ اس اچانک جھٹکے کے نتیجے میں مسافروں اور عملے کے کئی افراد زخمی ہوئے۔ طیارے میں مجموعی طور پر۱۴۵؍ افراد سوار تھے، جن میں سے ۱۳؍مسافر اور عملے کے ۴؍ اراکین کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سپر جائنٹس نےشکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے کی امیدیں برقرار رکھیں
ایئر انڈیا کا مؤقف
ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق کمپنی سول ایوی ایشن کے ضوابط کے تحت اپنے عملے کے اراکین کے باقاعدگی سے ڈرگ ٹیسٹ کرواتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایئرلائن متعلقہ حکام کے ساتھ تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ ایئرلائن نے پائلٹ کے مبینہ مثبت ٹیسٹ کے بارے میں براہِ راست کوئی تصدیق نہیں کی ہے، اس لیے اس مرحلے پر اسے میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والا الزام سمجھا جا رہا ہے، حتمی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
ڈی جی سی اے کی تحقیقات
ہندوستانی میڈیا کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ پرواز کے تمام عملے کو ڈیوٹی سے ہٹائے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔اگر کسی پائلٹ کا psychoactive substance کے لیے ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو موجودہ ضوابط کے تحت پہلی مرتبہ اسے بحالی اور علاج کے پروٹوکول کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ دوبارہ ڈیوٹی پر آنے کے لیے اسے دوبارہ ٹیسٹ میں منفی نتیجہ حاصل کرنا ہوگا۔ اگر کوئی پائلٹ دوسری مرتبہ اس طرح کے معاملے میں ملوث پایا جائے تو اس کا لائسنس تین سال تک معطل کیا جا سکتا ہے جبکہ تیسری مرتبہ خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس منسوخ کیے جانے کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:راکنگ اسٹار یش کی فلم’’ٹاکسک‘‘ کا ٹریلر جاری
تحقیقات کا اہم پہلو
اس واقعہ میں طیارے کا اچانک ۳۰۰؍ فٹ نیچے آنا پہلے ہی ایوی ایشن حکام کی توجہ کا مرکز ہے۔ پائلٹ کے مبینہ ڈرگ ٹیسٹ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا عملے کی کسی ممکنہ حالت کا پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ فی الحال پائلٹ کے مبینہ مثبت ٹیسٹ اور ٹربولنس کے واقعہ کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔ حتمی نتیجہ ڈی جی سی اے کی تحقیقات اور سرکاری رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔