Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کا غزہ سے جزوی انخلا اور کثیرالملکی فوج کی تعیناتی پرغور: رپورٹ

Updated: August 09, 2026, 7:12 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی سیکیورٹی ادارے غزہ کی پٹی کے بعض حصوں سے فوج کو جزوی طور پر نکالنے اور ان کی جگہ کثیر الملکی فوج تعینات کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ، جو ابھی زیرِ بحث ہے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد اور حماس کے ساتھ مہینوں تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد علاقے کو مستحکم کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی ادارے غزہ کی پٹی کے بعض حصوں سے فوج کو جزوی طور پر نکالنے اور ان کی جگہ کثیر الملکی فوج تعینات کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ، جو ابھی زیرِ بحث ہے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد اور حماس کے ساتھ مہینوں تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد علاقے کو مستحکم کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔چینل۱۲؍ نیوز کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی افسران نے حالیہ دنوں میں اس تجویز پر بات چیت کی ہے، جس میں ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ کے قیام کا تصور کیا گیا ہے۔ یہ فورس ممکنہ طور پر امن و امان برقرار رکھنے اور مزید جنگ کو روکنے کیلئے غزہ کے مخصوص علاقوں میں تعینات کی جائے گی ۔
بعد ازاں مبینہ طور پر اسرائیل نے اس فورس کے علاقے کے کچھ حصوں میں داخلے کی ابتدائی منظوری دے دی ہے،

یہ بھی پڑھئے: سعودی، ترکی اور پاکستان معاہدہ کی عالمی میڈیا میں گونج

تاہم ان علاقوں کی صحیح نشاندہی اور اسرائیلی انخلا کی حد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جبکہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کثیر الملکی فوج میں کون سے ممالک فوجی دستے فراہم کریں گے یا ان کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ تاہم، ماضی میں اسی نوعیت کے امن مشن میں مغربی اور عرب ممالک کی افواج شامل رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی دباؤ اسرائیل اور حماس دونوں پر پائیدار جنگ بندی اور غزہ میں انسانی بحران کے حل کے لیے بڑھ رہا ہے، جہاں ہزاروں فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی افسران اس انخلا کے خطرات اور فوائد کا جائزہ لے رہے ہیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ حماس ان علاقوں میں دوبارہ منظم ہو سکتا ہے جہاں سے اسرائیلی فوجیں نکلیں گی۔ یہ منصوبہ یرغمالیوں کی رہائی اور طویل مدتی جنگ بندی کے لیے جاری وسیع تر سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۳۰۰؍ دنوں میں ۳۰۰؍ بچوں کی موت ہوئی: یونیسیف

دریں اثنا، اسرائیلی فوج غزہ کے دیگر حصوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اور کوئی بھی جزوی انخلا سیکیورٹی ضمانت پر مشروط ہوگا۔علاوہ ازیں رپورٹ میں نفاذ کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی، اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا حماس غیر ملکی فورس کی موجودگی کو قبول کرے گا۔ بعد ازاں اسرائیلی حکومت نے اس تجویز پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا۔ جبکہ یہ مباحثے حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری تباہ کن تشدد کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور بین الاقوامی برادری کے کردار پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK