• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجیت پوار کی الزام تراشی، بی جے پی کا جوابی حملہ

Updated: January 04, 2026, 5:10 AM IST | Pune

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ بی جے پی لیڈران کی راکشسوں جیسی بھوک مٹنے کا نام نہیں لیتی‘‘ رویندر چوہان نے جواب دیا ’’ ہم نے منہ کھولا تو آپ تکلیف میں آجائیں گے‘‘

This is the first time Ajit Pawar has openly targeted BJP (Agency)
اجیت پوار نے پہلی بار یوں کھل کر بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے ( ایجنسی)

 ایک روز قبل اچانک سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی جب نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اپنی حلیف بی جے پی پر بد عنوانی کے سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے ۷۰؍ ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کے الزام کا بھی تذکرہ کیا ۔ اجیت پوار کا کہنا تھا جن لوگوں نے ان پر الزام لگائے آج وہ انہی کے ساتھ حکومت میں شامل ہیں۔ ان کے اس بیان پر بی جے پی کے کار گزار ریاستی صدر رویندر چوہان نے اجیت پوار کو اپنے گریبان میں جھانکنےکا مشورہ دیا ہے تو چندر شیکھر باونکولے نے انہیں مہایوتی کے حلیفوں میں ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کرنے کا قرار یاد دلایا۔ 
  یاد رہے کہ ایک روز قبل اجیت پوار نے پونے کے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کی انتخابی مہم کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنے مخالفین کانگریس، یا شیوسینا (ادھو) کے بجائے اپنی حلیف بی جے پی ( جو اس الیکشن میں حلیف نہیں ہے ) پر الزامات کی بارش کر دی۔ اجیت پوار نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کی راکشسوں جیسی بھوک مٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے آنے سے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن دیوالیہ ہو گیا ۔ شہر میں لٹیروں کی ٹولیاں گھومنے لگیں۔ہفتہ وصولی کا کاروبار چل رہا ہے۔ میرے پاس اس کے پختہ ثبوت ہیں۔ اجیت پوار نے کہا ۲۰۱۷ء سے پہلے پمپری چنچوڑ کارپوریشن کا فنڈ ۴۸۴۴؍ کروڑ روپے تھا جو اب ۲؍ ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ یہ فنڈ بڑھنا چاہئے تھا مگر کم ہو گیا اور جو قرض کم ہونا چاہئے تھا وہ بڑھتا چلا گیا۔اگرآپ نے پیسہ خرچ کیا ہے تو کہاں خرچ کیا ہے وہ کام دکھائیے ناں! شہر کی بد انتظامی اور بد عنوانی کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اجیت پوار نے کہا ’’ یہ سب اقتدار کا خمار ہے۔ اس وقت اقتدار کا خمار سر پر چڑھا ہوا ہے۔ مجھ پر ۷۰؍ کروڑ روپے کی بد عنوانی کا الزام لگایا گیا تھا۔ جن جن لوگوں نے یہ الزام لگایا تھا آج ان سب کے ساتھ میں حکومت میں شامل ہوں۔ ہوں ناں؟ ‘‘ اجیت پوار کا کہنا تھا ’’ جب تک عدالت فیصلہ نہ سنادے کسی کے الزام لگا دینے سے کوئی مجرم نہیں ہو جاتا۔‘‘
’’اجیت پوار کو گریبان میں جھانکنا چاہئے‘‘  
 اجیت پوار کا بیان میڈیا پر وائرل ہوتے ہی بی جے پی میں بھی ناراضگی پھیل گئی۔ پارٹی کے کارگزار ریاستی صدر رویندر چوہان نے کہا ’’ اجیت پوار کا یہ بیان  الیکشن کے پس منظر میں دیا گیا بیان ہے۔ اجیت پوار کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر ہم نے زبان کھولی تو وہ دقت میں آجائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر چندر شیکھر باونکولے نے کہا’’ہم تمام کوآر ڈی نیشن کمیٹی کے اراکین نے مل کر اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر دوست پارٹیاں اگر ایک دوسرے کے سامنے الیکشن لڑیں گی تو آپس میں اختلافات پیدا نہیں ہونے چاہئے۔ اس کا خیال تینوں پارٹیاں رکھیں گی۔‘‘ باونکولے نے کہا ’’ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے  اب تک انتخابی مہم میں دوست پارٹیوں پر الزام تراشی سے گریز کیا ہے۔ وہ صرف ترقیاتی کاموں پر بات کر رہے ہیں۔ میں ایکناتھ شندے اور اجیت پوار سے بھی امید کرتا ہوں کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں گے۔‘‘  ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اجیت پوار کے الزامات کا جواب دیں گے؟ تو انہوں نے کہا ’’ ہم اس جھمیلے میں نہیں پڑتے۔ ہم دوست پارٹیوں کے درمیان بڑے بھائی کے کردار میں ہیں۔ اس لئے ان سب باتوں کا جواب دینا مناسب نہیں ہوگا۔ البتہ میں اجیت پوار صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ آپسی تعلقات بحال رکھیں اور رشتوں میں دراڑ نہ آئے اس بات کا خیال رکھیں۔‘‘  
 تو پھر اجیت پوار کو بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے 
 اس دوران شیوسینا ( ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے اجیت پوار سے سوال کیا ہے کہ اگر بی جے پی بد عنوانی میں مبتلا ہے تو وہ اس کے ساتھ حکومت میں شامل کیوں ہیں؟ رائوت نے پوچھا ’’ پھر آپ حکومت میں کیوں ہیں؟ انہیں (اجیت) چاہئے کہ وہ بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر شرد پوار کی پارٹی میں آجائیں جن سے انہوں نے پمپری چنچوڑ میں اتحاد کر رکھا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ اجیت پوار کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیں اور شرد پوار والی این سی پی میں شامل ہو جائیں جوکہ اصل این سی پی ہے۔ ‘‘ سنجے رائوت کے مطابق’’ این سی پی اور بی جے پی ایک دوسرے پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں اور اتحاد پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اجیت پوار کو کوئی نئی راہ نظر آ رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو انہیں بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے۔ ‘‘ یاد رہے کہ اجیت پوار نے کئی شہروں میں این سی پی (شرد) کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے لیکن کسی بھی شہر میں وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں۔ ‘‘

pune Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK