• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی پونے ایکسپریس وے ۲۴؍ گھنٹے بند

Updated: February 04, 2026, 11:08 PM IST | Mumbai

کھانا اور پانی کے بغیرٹریفک جام میں پھنسنے والے بدحال ،خصوصاً بچوں کا برا حال،اپوزیشن جماعتوں کی حکومت پر تنقید

Vehicles are seen stranded after an accident on the Mumbai-Pune Expressway. (Photo: PTI)
ممبئی پونے ایکسپریس وے پر حادثے کے بعد گاڑیاں پھنسی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ( تصویر:پی ٹی آئی)

 منگل کی شب ممبئی پونے ایکسپریس وے پر  ادوشی ٹنل سے پہلے ایک خطرناک گیس کے ٹینکر کے پلٹنے کے بعد حفاظتی اقدام کے تحت اس ایکسپریس وے کو بند کر دیا گیا اور ۲۰ ؍تا ۲۲؍ گھنٹہ گزر جانے کے باوجود اسے شروع نہ کرنے سے ٹریفک میں پھنسنے والے ہزاروں مسافروں کو شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کا یہ سفر آزمائش میں تبدیل ہو گیا جس میں بوڑھے مسافر، بچے اور پیشہ ور افراد کئی گھنٹے تک کھانا پانی  کے بغیر اس جام میں پھنسے رہ گئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور اس حالت کو ریاست کی ترقی کی حقیقت تصویر قرار دیا ۔ چہار جانب سے تنقید اور میڈیا رپورٹ کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے متعلقہ افسران کو ہنگامی صورتحال میںٹریفک جام کو ختم کرنے کیلئے اقدام کرنے کی ہدایت دی۔
 خالہ پور ٹول پلازہ کے قریب، پونے کےرہائشی روہت مور اپنے ۲؍بچوں، جن کی عمر ایک اور تین سال تھی، کے ساتھ رات بھر اپنی کار میں ہی پھنسے رہ گئے۔ یہاں کوئی بیت الخلاء نہیں ہے، محفوظ طریقے سے باہر نکلنے کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بچوں کو گھنٹوں کھڑی کار کے اندر رکھنا پڑا ہے۔بچوں کیلئے دودھ اور ہگیس ختم ہو گیااور بچے رات بھر روتے رہے۔ موہت کےمطابق ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اتنے طویل ٹریفک جام میں ہمیں پھنسنا پڑے گا۔
 کئی مسافروں کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ کے باعث انہیں راشن پانی، کھانا چھوڑنے اور بغیر وینٹیلیشن کے گھنٹوں گاڑیوں کے اندر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ والدین نے بے چین بچوں کو پرسکون کرنے کیلئے جدوجہد کی جبکہ بزرگ مسافروں نے جسم میں درد، پانی کی کمی اور بے چینی کی شکایت کی۔اسی طرح ملازمت پیشہ افرادکا کام بھی بری طرح متاثر ہوا اور وہ  وقت پر دفتر نہیں پہنچ سکے ۔ وہ موبائل نیٹ نہ ہونے کے سبب آن لائن بھی کچھ کام نہ کر سکے۔
  اس سلسلے میں شیو سینا ( ادھو) کے لیڈر اور سابق ریاستی وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے ایکس پر لکھا،کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ حکومت ممبئی۔پونے ایکسپریس وے پر۲۰؍گھنٹے سے زیادہ وقت سے پھنسےا فراد مدد نہیں کر سکتی۔ حکومت کو وہاں سے کچھ فاصلے پر کھانا،پانی اوربیت الخلاء پیش کر کے مدد کرنا چاہئے تھا۔‘‘ٹھاکرے نے مشورہ دیا کہ شاہراہوں کی دیکھ بھال اور چلانے کے ذمہ دار ٹول آپریٹرز کو یہ خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔
  اس ضمن میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ، جو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کی بات کر رہے ہیں، مسلسل انفراسٹرکچر کا ڈھول پیٹ رہے ہیں لیکن خود مہاراشٹر میں، ممبئی۔پونے ایکسپریس وے گزشتہ۲۴؍گھنٹوں سے مکمل طور پر بند ہے۔ ریاست کا سب سے اہم مواصلاتی راستہ بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں اور لاکھوں شہری پھنسے ہوئے ہیں۔اتنے بڑے بحران کے وقت حکومت کے پاس کوئی متبادل نظام نہیں، کوئی ہنگامی منصوبہ نہیں، یہ اس نام نہاد ترقی کی حقیقی تصویر ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK