اجیت پوار کاسیلاب زدہ کسانوں کی فوری مدد کا مطالبہ

Updated: August 03, 2022, 9:42 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

گزشتہ ہفتے ریاست کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ کرنے کے بعد ممبئی پہنچے اپوزیشن لیڈر نے پریس کانفرنس میں نئی حکومت کی ناکامیوں کی نشاندہی کی اور ا سےکسانوںکی صورتحال سے آگاہ کیا ، اپوزیشن لیڈر کا ان مسائل کے حل کیلئے جلد از جلد اسمبلی اجلاس منعقد کرنے کا بھی مطالبہ

Opposition delegation led by Ajit Pawar during meeting with Governor Bhagat Singh Koshyari
اجیت پوار کی قیادت میں اپوزیشن کاوفد گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کے دوران

وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی جانب سے بھلے ہی یہ دعویٰ کیا جارہا ہو کہ ان کی حکومت عوامی مفاد کی اسکیموں کیلئے تیزی سے متعدد فیصلے کر رہی ہے لیکن دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اجیت پوار نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کی سست روی کے سبب ودربھ اور مراٹھواڑہ سمیت  مہاراشٹر کے متعدد سیلاب  زدہ  اضلاع کے متاثرین کو امداد نہیں پہنچ رہی ہے جس کے سبب کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ اجیت پوار نے  جو گزشتہ ہفتے  مذکورہ علاقوں  کے دورہ پر تھے اور کسانوں سے ملاقات کی تھی، منگل کو ممبئی میں این سی پی آفس میںمنعقدہ پریس کانفرنس میں نئی حکومت کی ناکامیوں کی نشاندہی کی اور زمینی حقیقت سے آگاہ کیا۔ انہوںنے یہ ۲؍ رکنی کابینہ پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت تشکیل ہونے کے ایک ماہ بعد بھی کابینہ کی توسیع نہ ہونے اور افسران  تک واضح ہدایت نہ پہنچنے کی وجہ سے متاثرین امداد کیلئے ترس رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے ان مسائل کے حل کیلئے جلد از جلد اسمبلی اجلاس بھی منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔اپوزیشن لیڈر نے  ۲۱؍ نکاتی مکتوب کی نقل بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تقسیم کی۔  اس مکتوب  میں ۷؍ مطالبات  کئے گئے ۔یہ لیٹر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو بھی دیا گیاہے۔
  اجیت پوار نے کہا کہ ’’ مَیں نے ۲۸؍ تا ۳۱؍ جولائی وردبھ اور مراٹھواڑہ میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیااور متاثرہ عوام اور کسانوں سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے میں پتہ چلا ہے کہ کئی کسانوں کی پوری پوری فصلیں  برباد ہو گئیں ، مکانات تباہ ہو گئے ہیں، کئی کسانوں کے مویشی بھی ہلاک  اور کئی لاپتہ ہو چکے ہیں،لاپتہ مویشیوں کا پوسٹ مارٹم رپورٹ نہ ہونے سے انہیں معاوضہ بھی نہیں مل پارہا ہے۔ ندی اور نالوں کے کنارے آباد مکانوں اور کھیتی کو شدید نقصان پہنچاہے۔گاؤں میں و اقع کنوئیں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہےلیکن متعدد افسران کو واضح ہدایت نہ ہونے کے سبب سرکار کی امداد متاثرین کو نہیںمل رہی ہے۔اسی تباہی کے سبب کسان شدید پریشان ہیں اور اسی طرح کی پریشانیوں سے دل برداشتہ ہوکر ایک کسان نے خودکشی بھی کر لی ہے۔ 
 انہوںنے مزید کہا کہ ’’ریاست میں شدید بارش کی وجہ سے زرعی زمین کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے لیکن وزیر اعلیٰ استقبالیہ اور دوسرے کاموں میں مصروف ہیں۔  ریاست کے ۱۳؍ کروڑ عوام کو فکر ہے کہ شدید بارش کی وجہ سے کسانوں کی زندگیاں برباد ہو گئی ہیں۔وزیر اعلیٰ سے ودربھ مراٹھواڑہ کو سیلاب زدہ قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے، جہاں پہلے بھاری بارش ہوئی تھی وہاں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔  اس کے علاوہ اجیت پوار نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ شدید بارش سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بچوں کی تعلیمی فیس معاف کی جائے۔
اپوزیشن لیڈروں کی گورنر سے ملاقات
 اس دوران  اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں پر مشتمل ایک وفد نے منگل کو اپوزیشن لیڈر اجیت پوار کی قیادت میںراج بھون میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی اور سیلاب متاثرہ علاقوں کے شہریوں  اور کسانوں کو فوری مالی مدد اور راحت  کیلئے حکومت کو ضروری ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے گورنر کو بتایاکہ ودربھ اور مراٹھواڑہ سمیت ریاست میں شدید بارش اور سیلاب سے لوگ پریشان ہیں اور کابینہ تشکیل نہ دینے سے متاثرین تک مدد نہیں پہنچ رہی ہے۔ گورنر سے ملاقات کرنے والے وفد میں اپوزیشن لیڈر اجیت پوار کے ساتھ سینئر لیڈر اور سابق وزراء چھگن بھجبل، حسن مشرف، ادیتی  تٹکرے، ایم ایل اے انل پاٹل، نتن پوار، چندرکانت نوگھرے، سنیل بھوسارا اور دیگر لیڈران شامل تھے۔ گورنر سے مطالبہ کیا گیا کہ کسانوں کو بحران سے نکالنے کے لئے فوری طور پر۷۵ ؍ ہزار روپے فی ہیکٹر اور فصلوں کی تباہی سے ابھارنے کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے کی امداد فراہم کی جائے۔
نائب وزیر اعلیٰ کے پاس بھی کوئی وزارت نہیں !
  اپوزیشن لیڈر اجیت پوار نے کہا کہ ’’نئی حکومت کی تشکیل کوایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک کابینہ کی توسیع نہیں کی گئی ہے۔۴۲؍ تا ۴۳؍ وزارت کا کام محض ۲؍ رکنی حکومت کر رہی ہے اور کئی فائلیں وزیر اعلیٰ کی دستخط کیلئےزیر التوا ہیں ، نتیجتاً عوام کے متعدد کام التوا کا شکار  ہو رہے ہیں۔ ‘‘ انہوںنے مزید کہاکہ ’’ سیکریٹریوں سے بات چیت کے دورا ن پتہ چلا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ کو بھی کسی محکمہ کا قلمدان نہیں دیا گیا ہےبلکہ سبھی اختیارات وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے پاس ہی محفوظ رکھے ہیں اور جب تک وہ دستخط نہیں کریں گے ، اسکیمیں آگے نہیں بڑھیں گی ۔وزیر اعلیٰ کے پاس ان فائلوں پر دستخط کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘
 وزیر اعلیٰ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات ۱۰ بجے کے بعد بھی لاوڈ اسپیکر کر رہے ہیں 
 اپوزیشن لیڈر اجیت پوار نے کہا کہ ’’ان دنوں نئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے متعدد اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں جہاں انہیں مبارکباد پیش کی جارہی ہے لیکن ان تقاریب میں رات ۱۰؍بجے کے بعد بھی مائیک اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جارہا ہےجو قانون کی خلاف ورزی ہے۔اجیت پوار نے کہا کہ  سپریم کورٹ نے رات ۱۰؍بجے کے بعد لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔جو وزیر اعلیٰ  ضلع سپرنٹنڈنٹ اور پولیس کمشنر کو قانون پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے، آج وہ ہی قانون کے خلاف ورزی کر رہا ہے جس سے عوام کو پریشانی ہو رہی ہے۔

ajit pawar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK