بی جے پی گڑھوں کی جگہ جیب بھرنا جانتی ہے

Updated: October 18, 2021, 2:27 PM IST | Agency | Lucknow

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا پریس کانفرنس سے خطاب ، کہا:’’ بی جے پی حکومت صرف نام بدلنا، رنگ بدلنا، ہورڈنگ لگوانا، گنگا جل چھڑکوانا اور کار پلٹوانا جانتی ہے، اس کا بس چلے تو تھرمل پلانٹ کا نام بدل کر کمل پلانٹ کروا دے۔‘‘ ان کے مطابق عوام بی جے پی کو اپنے ووٹ سے کچلیں گے

Samajwadi Party chief Akhilesh Yadav addressing a press conference.Picture:INN
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پریس کانفر نس سے خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

جو ادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ  بی جے پی  گڑھوں کی جگہ جیب بھر نا جانتی ہے۔ ان کے مطابق  جھوٹے وعدوں اور اشتہارات کے ذریعہ اترپردیش میں حکومت چلانے والی بی جے پی کو  عوام اپنے ووٹوں سے کچلنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔واضح رہے کہ اکھلیش یادو نے’ کچلنے‘ لفظ  کسانوں کو’جیپ‘ سے ’کچلنے ‘کے پس منظر میں استعمال کیا  ہے۔ 
 اتوار کو اکھلیش یادو کی موجودگی میں بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے سابق ریاستی صدر آر ایس کشواہا ، سابق ایم ایل اے ادے پال موریہ ، اترپردیش ملازم یونین لیڈر ہری کشور تیواری اور دیگر ایس پی میں شامل ہوئے ۔  بعد ازاں پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو  نے کہا :’’بی جے پی حکومت صرف نام بدلنا، رنگ بدلنا، ہورڈنگ لگوانا، گنگا جل چھڑکوانا، کار پلٹوانا اور گڑھوں کی جگہ جیب بھرنا جانتی ہے۔ اس کا بس چلے تو تھرمل پلانٹ کا نام بدل کر کمل پلانٹ کروا دے۔‘‘
  پر یس کانفرنس کے  دوران بی ایس پی کے لیڈروں کے ایس پی میں شامل ہونے کے سوال  پر انہوں نے کہا :’’ محروموں، استحصال زدہ ا فراد اور دلتوں کی فلاح  وبہبودکے سلسلے میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے نظریات  یکساں رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دلتوں کے حامی ایس پی کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی ایس پی میں شامل ہونے والے بی ایس پی لیڈروں کے بارے میں کچھ بھی  کہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔  وہ دن بھی دور نہیں جب بی جے پی کے سیکڑوں لیڈر  ہماری پارٹی میں شامل ہوں گے کیونکہ سننے میں آرہا ہے کہ  بی جے پی  کے تقریباً۱۵۰؍اراکین اسمبلی کو آ ئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملیں گے۔‘‘
  انہوں نے مزید کہا :’’عوام نے بی جے پی پر اعتماد کااظہار کر کے دو بار لوک سبھا اور۲۰۱۷ء میں یوپی میں حکومت بنانے میں مدد کی لیکن ان کے ارمانوں کا خون کیا گیا۔ مرکز کی  حکومت نے ملک کی معیشت کو ۵؍ٹریلین ڈالر بنانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ یوپی میں یوگی حکومت نے ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن نتیجہ اب بھی صفر ہے۔‘‘
 سابق وزیر اعلیٰ  کے بقول:’’ مہنگائی پرقابو پانے کا وعدہ بھی  جھوٹا تھا ۔ آج صبح کی چائے سے لے کر رات کا کھانا تک کئی گنا مہنگا ہوچکا ہے۔ تمام غریب مزدور آج فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں۔ پیٹرول،ڈیزل، اشیائے خوردونوش اورتیل کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔  گلوبل انڈکس میں ہمارا ملک پاکستان،نیپال اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے چلاگیا ہے۔ ناقص تغذیہ میں اترپردیش پورے ملک میں سرفہرست ہے۔یہ سب بی جے پی حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘
   پریس کانفرنس میں ان کا یہ بھی کہنا تھا :’’   حکومت کہتی ہے کہ وہ غریب عوام کو بڑے پیمانے پر گیہوں چاول دے رہی ہے لیکن اس سے   پیٹ نہیں بھر پارہا ہے۔ ایس پی حکومت کے  دور حکومت میں شروع کی گئی’ اکشے پاتراسکیم‘ صدر لکھنؤ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بچوں کی پڑھائی چوپٹ ہے۔ پڑھائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے۔ ملک کا مستقبل اندھیرے میں  ہے۔‘‘ ان کے بقول:’’ یہ حکومت صرف نعروں، اشتہارات  میں اچھی لگتی ہے۔ یہاں صرف اشتہارات میں نوکری ملتی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ اس نے ایک لاکھ روزگار اور نوکری دی ہے۔ اگر ایسا ہے تو حکومت کو نوکری اور روزگار پانے والوں کی فہرست منظر عام پر لانی چاہئے۔‘‘
 سابق وزیر اعلیٰ نے کہا :’’ کسان اپنا حق  مانگتا ہے تو اسے ٹائروں سے کچل دیا جاتا ہے۔ کسان  عوام کا پیٹ بھر رہا ہے اور ان کا جسم  ڈھانپنے کیلئے کپڑے دےرہا ہے۔ حقیقت میں  وہ ملک کی معیشت کو توانائی فراہم کرتا ہے مگر اسے دہشت گرد اور موالی کہا جارہا ہے۔ اب تک گنے کا بقایا بھی ادا نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ 
  کوئلہ کی کمی سے بجلی کے بحران پر ان کا کہنا تھا:’’ یہ حکومت  سستی بجلی دینے کا دعویٰ کررہی ہے جبکہ لوگوں کو تیوہار اندھیرے میں منانے پڑ رہے ہیں۔اگر صحیح وقت پر کوئلے کا انتظام کیا ہوتا تو  تیوہار پر بھی بجلی مل جاتی۔‘‘
  ان کے بقول:’’ بندیل کھنڈ میں خصوصی اسکیم کے تحت سرسوں کی منڈیاں بنائی گئی تھیں جسے۳؍ نئے زرعی قوانین وجود میں آنے کے بعد روک دیا گیا۔ کسان کو قیمت کہاں ملے گی؟ وہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ بندیل کھنڈ میں تل، سرسوں اور سویا بین کا پروڈکشن بڑھانے کے لئے بندیل کھنڈمیں خصوصی اسکیم کےتحت کام کیا جائے گا۔ سرسوں کےتیل کے لئے پلانٹ لگائے جائیں گے۔‘‘
 انہوں نے یہ بھی کہا:’’ حکومت غلط جواز پیش کرتی ہے کہ ملاوٹ بند ہونے سے سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔   دراصل تیل میں ملاوٹ کرنے کیلئے  بی جے پی حکومت نے کاروباریوں کو راحت اور رعایت دینے کی اسکیم بنائی ہے تاکہ ان کے جیبیں مزید بھریں اور عوام کو خالص تیل نہ ملے۔ عوام ووٹ کی چوٹ دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK