شہر کے راجپوت پورہ علاقے میں اتوار کی صبح ۴؍ منزلہ عمارت کا بڑا حصہ اچانک تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوگیا۔ اس حادثے میں ۴؍ لڑکیاں ملبے تلے دب گئیں۔
عمارت منہدم ہونے کے بعد کا منظر۔ تصویر: آئی این این
شہر کے راجپوت پورہ علاقے میں اتوار کی صبح ۴؍ منزلہ عمارت کا بڑا حصہ اچانک تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوگیا۔ اس حادثے میں ۴؍ لڑکیاں ملبے تلے دب گئیں۔ مقامی شہریوں نے فوری مدد کرتے ہوئے انہیں بحفاظت باہر نکالا۔ ان میں سے ایک لڑکی کا پیر ٹوٹ گیاجسے ضلع سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ دیگر لڑکیوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔
اطلاعات کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے موٹر وہیکل ڈپارٹمنٹ کے پیچھے واقع یہ عمارت پرکاش یادو کی ملکیت ہے جس میں پرمود موہن لال پانڈے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔ اتوار کی صبح پرمود پانڈے معمول کے مطابق دکان کھولنے جارہے تھے تبھی عمارت کا ایک بڑا حصہ اچانک گر گیا۔ ملبے تلے مانسی، مانوی، سانچی اور تروپتی نامی لڑکیاں دب گئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔
اطلاع ملتے ہی میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر جے سی بی کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ رکن پارلیمنٹ انوپ دھوترے اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین وجے اگروال نے بھی جائے وقوع کا دورہ کرکے مقامی باشندوں سے معلومات حاصل کیں۔مقامی باشندوں کے مطابق عمارت زیادہ پرانی نہیں تھی، اس کے باوجود اس کا ایک بڑا حصہ منہدم ہونے سے تعمیراتی معیار اور حادثے کی وجوہات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم عمارت گرنے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔
اکولہ شہر میں خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے چاروں زونل دفاتر کی جانب سے جولائی میں ۲۲۵ ؍ خستہ حال عمارتوں کے مالکان کو عمارتیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، اس کے باوجود شہر میں متعدد خطرناک عمارتیں موجود ہیں جن میں لوگ اب بھی رہائش پذیر ہیں۔ راجپوت پورہ کے تازہ حادثے نے اس مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔