Updated: June 08, 2026, 4:00 PM IST
| Mumbai
اکشے کمار نے اپنی آنے والی فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کیلئے مبینہ طور پر روایتی بھاری معاوضے کے بجائے ایک مختلف مالی ماڈل اختیار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اداکار نے کم پیشگی فیس پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اپنی آمدنی کا بڑا حصہ فلم کی مستقبل کی تجارتی کامیابی اور دانشورانہ املاک (آئی پی) کے حقوق سے منسلک کر دیا ہے۔
اکشے کمار ویلکم ٹو دی جنگل میں۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کے معروف اداکار اکشے کمار نے اپنی نئی فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ میں مبینہ طور پر معاوضے کا ایک غیر روایتی ماڈل اپنایا ہے، جس نے فلمی اور تجارتی حلقوں میں دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ انڈسٹری رپورٹس کے مطابق اکشے کمار نے اس کامیڈی فلم کے لیے اپنی روایتی بھاری فیس لینے کے بجائے نسبتاً کم پیشگی معاوضہ قبول کیا ہے۔ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اداکار نے تقریباً ۸ء۱؍ کروڑ روپے کی ابتدائی فیس پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ ان کی اصل کمائی کو فلم کی طویل مدتی تجارتی کارکردگی اور دانشورانہ املاک (آئی پی) کے حقوق سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس انتظام کے تحت اکشے کمار کو فلم کی ریلیز کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں حصہ مل سکتا ہے، جس سے ان کی مالی دلچسپی براہِ راست فلم کی کامیابی سے منسلک ہو جائے گی۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاہدے ہالی ووڈ میں عام ہیں، تاہم بالی ووڈ میں نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ فلم کے پروڈیوسر فیروز ناڈیاڈ والا ہیں، اور بتایا جا رہا ہے کہ اس مالی ماڈل سے پروڈیوسرز پر فوری مالی دباؤ کم ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں فلم کی تیاری، تشہیر اور ریلیز کے لیے وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ثریا اور دیو آنند نےجن فلموں میں کام کیا، وہ فلم شائقین کے ذہنوں پر نقش ہوگئی
تجارتی ذرائع کے مطابق فلم ریلیز سے قبل ہی مالی طور پر مستحکم پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ او ٹی ٹی، سیٹیلائٹ، میوزک اور دیگر غیر تھیٹر حقوق کی فروخت کے ذریعے تقریباً ۱۲۰؍ کروڑ روپے کے معاہدے طے پا چکے ہیں۔ ایک تجارتی ذریعے نے فری پریس جرنل سے گفتگو میں کہا، ’’ابھی تک اطلاعات یہی ہیں کہ او ٹی ٹی، آڈیو اور سیٹیلائٹ حقوق کے ذریعے تقریباً ۱۲۰؍ کروڑ روپے کے معاہدے مکمل ہو چکے ہیں، اس لیے فلم کو اپنی لاگت پوری کرنے کے لیے باکس آفس پر زیادہ دباؤ کا سامنا نہیں ہوگا۔‘‘ ذرائع کے مطابق ’’ویلکم‘‘ فرنچائز کی مقبولیت بھی پروڈیوسرز کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ اس سلسلے کی پہلی فلم ’’ویلکم‘‘ اور دوسری فلم ’’ویلکم بیک‘‘ باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کر چکی تھیں، جس کے باعث تیسرے حصے سے بھی اچھی تجارتی توقعات وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم کی ریلیز کے بعد حاصل ہونے والی دانشورانہ املاک کی آمدنی میں اکشے کمار کو ۷۲؍ فیصد حصہ مل سکتا ہے، جبکہ باقی ۲۸؍ فیصد پروڈیوسرز کے حصے میں آئے گا۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اس خبر نے فلمی صنعت میں کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ دور میں، جب ہندی فلموں کی باکس آفس کارکردگی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، ایسے مالی ماڈلز پروڈیوسرز کے لیے نسبتاً محفوظ تصور کیے جا رہے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں اداکار کی کمائی براہِ راست فلم کی کامیابی سے جڑ جاتی ہے، جس سے ابتدائی اخراجات میں کمی آتی ہے۔
واضح رہے کہ اکشے کمار گزشتہ کئی برسوں سے بالی ووڈ کے مصروف ترین اور کمرشیل طور پر کامیاب اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں ان کی بعض فلموں کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی، تاہم وہ اب بھی شاہ رخ خان ، سلمان خان اور عامر خان کے ساتھ صنعت کے نمایاں ترین ستاروں میں شامل ہیں۔ ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ ۲۶؍ جون کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔