تل ابیب کی جانب سےشام کے شمال مغربی حصے میں ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر۸؍ حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 2:40 PM IST | Agency | Washington
تل ابیب کی جانب سےشام کے شمال مغربی حصے میں ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر۸؍ حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا۔
امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے شام میں ایک ایئر بیس کو نشانہ بنائے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہےمیڈیارپورٹس کے مطابق منگل کو ملک کے شمال مغربی حصے میں ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر۸؍ حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ان حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کا مقصد ترک فوجیوں کی وہاں تعیناتی کو روکنا تھا۔ ترکی میں امریکہ کے سفیر اور شام کےلئے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے حملوں کے بعد ایکس پر لکھا کہ واشنگٹن کو ابو الظہور پر ہونے والے اسرائیل کے حملوں پر شدید تشویش ہے اور ان سے کشیدگی میں غیر ضروری اضافہ ہو گا جس سے خطے کا استحکام متاثر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:چندر شیکھرن کے استعفیٰ پر ٹاٹا کی بورڈ میٹنگ جلد
ٹام باراک کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع کی جانب سے جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے اپنے حامی مسلح گروہوں کو برقرار رکھا بلکہ انہوں نے کئی بار اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ٹام باراک کے مطابق امریکہ ماضی میں بھی سفارتی کوششوں کے فروغ کے لئے مذاکرات کی میزبانی کرتا رہا ہے اور آگے بھی ایسا کرتا رہے گا۔
ترکی شام کی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور وہ شامی فوج کی مدد بھی فراہم کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے، دونوں ممالک شام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے اثر محدود کرنا چاہتے ہیں۔سعودی عرب، قطر اور مصر کی جانب سے بھی مذکورہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔شام کی وزارتِ خارجہ نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا ایک ’بلا جواز‘ حملہ قرار دیا۔ وزارت نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کرے۔ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام کے معاملے پر اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ اپنے کنٹرول والی ایجنسیوں سے جانچ کروالو ‘‘
دسمبر۲۰۲۴ء میں باغی ان کی حکومت کا تختہ پلٹنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بشارالاسد کی حکومت کے بعد اسرائیل شام پر سیکڑوں حملے کر چکا ہے اور ان میں زیادہ تر شامی فوج کے ساز و سامان اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس نے جنوبی شام میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں بننے والے ایک بفر زون کا کنٹرول بھی سنبھالا تھا۔پچھلے برس اسرائیل کے ڈرون حملوں میں دمشق کے جنوبی علاقے میں ۸؍ شامی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔