علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم گرفتار، مظاہروں میں شرکت کی تھی

Updated: May 29, 2020, 9:15 AM IST | Inquilab News Network | Aligarh

فرحان زبیری نے شہریت ترمیمی ایکٹ،این پی آر اور این آرسی کے خلاف مظاہروں میں سرگرم رول ادا کیاتھا

Aligarh Muslim Univeristy - Pic : INN
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس ۔ تصویر : آئی این این

 ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا کووِڈ-۱۹؍کی وبا سے  لڑ رہی ہے، ہندوستانی پولیس ان نوجوانوں کو گرفتارکرنے میںمصروف ہے جنہوں  نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف  احتجاج کا اپنا جمہوری حق استعمال کیا  اور مظاہروں میں  شرکت کی ۔
 نئی دہلی میں جامعہ اور جے این یو کے طلبہ  اور طالبات کے بعد اب  یوپی پولیس نے  علی گڑھ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کےلیڈر فرحان زبیری کو گرفتارکرلیا۔ زبیری کے ساتھ ان کے دوست روش علی خان کو بھی گرفتار کرنے کی اطلاعات ہیں۔ سماجی کارکن اور صحافی شرجیل عثمانی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس کی اطلاع دی ہے جس کی تصدیق دیگر کئی ٹویٹر ہنڈل سے کئے گئے ٹویٹس  سے ہورہی ہے۔ بہرحال پولیس کا اس سلسلے میں اب تک کوئی  بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ فرحان زبیری علی گڑھ میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے  خلاف ہونے والے مظاہروں  کے قائدین میں شامل تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹونٹس یونین کی کابینہ کے سابق رکن ہیں۔ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد وہ پریشان حال افراد کو مدد فراہم کرنے  کے کاموں میں سرگرم تھے۔ جمعرات کو وہ اپنے دوست کے ساتھ کسی سماجی کام سے باہر گئے ہوئے تھے تبھی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ اے ایم  یو کے  سابق صدر شکور عثمانی نے نیوز ڈی ڈاٹ اِن سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جب ملک لاک ڈاؤن سے جوجھ رہاہے، پولیس جان بوجھ کران مسلم مظاہرین کو  نشانہ بنارہی ہے جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ مخالف مظاہروں  میں  شرکت کی جرأت کی تھی۔ انہوں  نے بتایا کہ’’لاک ڈاؤن کے دوران بھی  فرحان مہاجر مزدوروں  کیلئے کام کررہے تھے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK