• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غازی آباد: ہندو تنظیم نے ہتھیار بانٹے، لکھنؤ: ایم آئی ایم نے گلاب اور قلم

Updated: January 02, 2026, 10:00 PM IST | Lucknow

غازی آباد میں ہندو رکشا دل کی جانب سے تلواروں اور ہتھیاروں کی تقسیم پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے کارروائی کی جبکہ لکھنؤ میں ایم آئی ایم کارکنان نے گلاب اور قلم بانٹ کر امن، بھائی چارے اور تعلیم کے فروغ کا پیغام دیا۔ یہ دونوں واقعات اتر پردیش میں دو متضاد سیاسی اور سماجی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اتر پردیش کے دو بڑے شہروں میں سامنے آنے والے حالیہ واقعات نے ریاست میں سیاسی اور سماجی رویوں کے دو متضاد چہرے پیش کئے ہیں۔ ایک طرف غازی آباد میں ایک ہندو تنظیم کی جانب سے تلواروں اور دیگر نوکیلے ہتھیاروں کی تقسیم کا معاملہ سامنے آیا، جس پر پولیس نے سخت کارروائی کی جبکہ دوسری طرف ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے گلاب اور قلم بانٹ کر محبت، بھائی چارے اور تعلیم کے فروغ کا پیغام دیا۔ غازی آباد کے ٹرانس ہنڈن علاقے میں سرگرم ایک تنظیم ہندو رکشا دل کے کارکنان پر الزام ہے کہ انہوں نے عوام میں تلواریں، کلہاڑیاں اور دیگر ہتھیار تقسیم کئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تنظیم کے افراد گلی محلوں میں لوگوں کو ہتھیار دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھئے: ۵؍ سال بعد مروڈ جنجیرہ میں نئے سال کے موقع پر ٹورازم فیسٹیول کا انعقاد

پولیس حکام کے مطابق، یہ کارروائی عوامی امن و امان کو خطرے میں ڈالنے کے زمرے میں آتی ہے۔ غازی آباد پولیس نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں ایسے اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائیں یا خوف کی فضا قائم کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ جاری ہے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس واقعے پر شہری حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کئی سماجی کارکنوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی کھلی تقسیم نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے معاشرے میں عدم تحفظ اور نفرت کو فروغ ملتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے واقعات سماجی تانے بانے کو کمزور کرتے ہیں اور معمولی تنازعات کو بڑے تصادم میں بدلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی دوران لکھنؤ میں بالکل مختلف منظر دیکھنے کو ملا۔ ایم آئی ایم کے کارکنان اور مقامی لیڈر نے شہر کے مختلف علاقوں میں عوام کو گلاب اور قلم تقسیم کئے۔ اس اقدام کے ذریعے پارٹی نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اس کی سیاست نفرت، تشدد یا اسلحے پر نہیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور تعلیم پر مبنی ہے۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت علم، مکالمے اور باہمی احترام کی ہے، نہ کہ خوف اور نفرت کی۔ ایم آئی ایم کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی پذیرائی ملی، جہاں کئی صارفین نے لکھا کہ ایسے علامتی اقدامات معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔ پارٹی کے مطابق، قلم علم اور شعور کی علامت ہے جبکہ گلاب امن اور محبت کا استعارہ، اور یہی اقدار ایک مضبوط اور متحد سماج کی بنیاد بنتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں میں مجلس اتحادالمسلمین اور ’مالیگائوں سیکولر فرنٹ‘ کے درمیان براہ راست مقابلہ کا امکان

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غازی آباد اور لکھنؤ کے یہ دونوں واقعات اتر پردیش کی سیاست میں دو مختلف بیانیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک بیانیہ طاقت اور خوف کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ دوسرا سماجی ہم آہنگی، تعلیم اور مکالمے کو ترجیح دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، عوام اور ریاستی اداروں کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ کس راستے کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاست میں امن و امان برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی تنظیم یا فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب، سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سمت میں لے جائیں۔ ان دونوں واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ سیاست کا مقصد کیا ہونا چاہئے: نفرت اور ہتھیار، یا محبت، بھائی چارہ اور تعلیم؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK