ایم آئی ایم سربراہ کی تقریر کے بعد لوگ ان سے ملنے اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے اور افراتفری مچ گئی، پولیس نے اویسی کو گھیرے میں لے کر باہر نکالا۔
اسدالدین اویسی اکولہ میں تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ایم آئی ایم آئی سربراہ اسد الدین اویسی کے انتخابی جلسے میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب سٹیج کے قریب اچانک ہزاروں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ بھیڑ کو قابو کرنا مشکل ہوگیا، جسکے نتیجے میں پولیس کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لاٹھی چارج کرنا پڑا اور بھگدڑ مچ گئی۔ یاد رہے کہ اتوار کی رات اسدالدین اویسی نے اکولہ کے ذوالفقار علی میدان میں جلسۂ عام سے خطاب کیا تھا۔ اویسی اکولہ میونسپل کارپوریشن کی انتخابی مہم کیلئےیہاں آئے تھے۔
اطلاع کے مطابق خطاب کے بعد اچانک بڑی تعداد میں لوگ اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے جس سے بھیڑ بے قابو ہوگئی اور افراتفری مچ گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اویسی نے خود ان سے ملنے کے خواہشمند لوگوں کو اسٹیج کی طرف بلایا تھا لیکن انہیں اس صورتحال کا اندازہ نہیں تھا۔ہنگامی طور پر انہیں اجلاس چھوڑ کر جانا پڑا۔ پولیس نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن صورتحال ہاتھ سے نکلتے دیکھ پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس دوران اویسی کو پولیس کے گھیرے میں گاڑی تک پہنچایا گیا۔ بتادیں کہ ایم آئی ایم اکولہ میں ۳۷؍ سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ جبکہ گزشتہ میونسپل کارپوریشن میں ایم آئی ایم کا صرف ایک ہی رکن منتخب ہوا تھا۔ اس انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ۔ انہوں نے اکولہ میں برتھ سرٹیفکیٹ دینا بندکئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں سے کتنی نفرت کرتی ہے۔ فرنویس۔شندے۔اجیت پوار مسلمانوں کو برتھ سرٹیفکیٹ دینے پر اتنے پریشان کیوں ہیں؟ ملک کو عالمی گرو بنانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ شہر کے متمول علاقوں کو ترقی دی جا رہی ہے لیکن انہیں غریب علاقوں میں ترقی کا خیال بھی نہیں آتا۔ مسلمانوں اور دلتوں کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟ میں اکولہ کے عوام سے اپیل کرتا ہوں وہ ایم آئی ایم کے امیدواروں کو منتخب کرکے دیں۔ ہم اکولہ کی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان نظر اندازکئے جارہے علاقوں کی ترقی کریں گے۔