Inquilab Logo Happiest Places to Work

نمبالکر قتل کیس میں پدم سنگھ پاٹل سمیت تمام ملزمین بری

Updated: June 20, 2026, 11:07 PM IST | Mumbai

قتل کے ۲۰؍ سال بعد آئے فیصلے میں ثبوتوں کی کمی کی بنا پر سابق وزیر داخلہ اور ان کے مبینہ ساتھیوں پر عائد الزامات کو خارج کر دیا گیا

Om Raje Nimbalkar: Disappointing decision despite changing tent
اوم راجے نمبالکر : خیمہ تبدیل کرنےکے باوجود مایوس کن فیصلہ

کانگریس لیڈرپون راجے نمبالکر قتل کیس میں ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت  نے تمام ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ ان میں سابق وزیر داخلہ پدم سنگھ پاٹل بھی شامل ہیں۔ تقریباً دو دہائیوں تک چلے اس مقدمے میں عدالت نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تمام ملزمین کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا، تاہم فیصلے کے خلاف سی بی آئی اور مقتول کے اہل خانہ نے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  یاد رہے کہ ۳؍ جون ۲۰۰۶ء کو پون راجے نمبالکر اور ان کے ڈرائیور صمد قاضی کو نوی ممبئی کے کلمبولی علاقے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق حملہ آوروں نے گاڑی کا تعاقب کرنے کے بعد فائرنگ کی تھی اور اس قتل کیلئے مبینہ طور پر انہیں ۳۰؍ لاکھ روپے کی سپاری دی گئی تھی۔مقدمے میں سابق وزیر اور سابق رکن پارلیمان اور اس وقت کے بااثر  لیڈر پدم سنگھ پاٹل سمیت ۹؍ افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ سی بی آئی کا دعویٰ تھا کہ سیاسی رقابت، مقامی انتخابی تنازعات اور کوآپریٹیو شعبے سے وابستہ اختلافات قتل کی ممکنہ وجوہات میں شامل تھے۔ استغاثہ کے مطابق لاتور کے تاجر ستیش منڈادے، سابق ریاستی ایکسائز افسر موہن شکلا اور دیگر افراد نے مبینہ طور پر اس سازش میں کردار ادا کیا تھا۔ معاملے میں پارس مل جین بعد میں سرکاری گواہ بن گئے تھے۔ابتدائی تفتیش نوی ممبئی پولیس نے کی تھی، تاہم پون راجے نمبالکر کی اہلیہ کی جانب سے تحقیقات پر عدم اطمینان ظاہر  کئےجانے کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے کیس سی بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔ پدم سنگھ پاٹل کو جون ۲۰۰۹ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسی سال ستمبر میں انہیں ضمانت مل گئی تھی، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت جولائی ۲۰۱۱ءمیں شروع ہوئی تھی۔
 تقریباً ۱۵؍ سال تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران استغاثہ نے ۱۲۸؍ گواہوں کے بیانات قلمبند کروائے۔ ان گواہوں میں سماجی کارکن انا ہزارے بھی شامل تھے، جنہوں نے عدالت کے سامنے مبینہ دھمکیوں سے متعلق بیان دیا تھا۔ مقدمے میں حتمی دلائل ۱۶؍ جون کو مکمل ہوئے تھے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔فیصلے کے وقت عدالت میں پدم سنگھ پاٹل، ان کے اہل خانہ، پون راجے نمبالکر کے خاندان کے افراد، ان کے بیٹے اوم راجے نمبالکر (رکن پارلیمان) اور صمد قاضی کے اہل خانہ موجود تھے۔ عدالت نے تمام ملزمین کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم سنایا۔
 فیصلے کے بعد مقتول کے بیٹے رکن پارلیمان اوم راجے نمبالکر نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قتل ہوا ہے تو پھر تمام ملزمین کو کیسے بری کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تفتیشی عمل ابتدا ہی سے سوالات کے گھیرے میں رہا اور اسی وجہ سے خاندان نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انصاف کے حصول کیلئے اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے۔کہا جا  رہا ہے کہ او م راجے نمبالکر اسی لئے شیوسینا (ادھو) چھوڑ کر شیوسینا(شندے) میں جا رہے تھے کہ ان کے والد کے قاتلوں کو سزا ملے۔ اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا وہ اب بھی مہایوتی میں شامل ہوں گے؟  اس سوال کے جواب میں اوم راجے نے کہا کہ میں عثمان آباد پہنچ کر اپنے کارکنان سے بات کروں گا ۔ اس کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔ اس فیصلے کے خلاف عثمان آباد میں احتجاج کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK