Updated: June 20, 2026, 10:04 PM IST
| Berlin
پلانیٹ اے فوڈز (Planet A Foods) نے دنیا کا پہلا کوکو سے پاک چاکلیٹ تیار کیا ہے، جو مکمل طور پر سورج مکھی کے خمیر شدہ اور بھنے ہوئے بیجوں سے بنایا گیا ہے اور اس کی تیاری میں کوکو کے ایک بھی بیج کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ ’چو ویوا‘ (ChoViva) نامی اس پروڈکٹ کی عالمی کنفیکشنری (مٹھائی اور چاکلیٹ) کی صنعت میں ایک ممکنہ گیم چینجر کے طور پر ستائش کی جا رہی ہے۔
باویریا، جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک اسٹارٹ اپ ’پلانیٹ اے فوڈز‘ (Planet A Foods) نے دنیا کا پہلا کوکو سے پاک چاکلیٹ تیار کیا ہے، جو مکمل طور پر سورج مکھی کے خمیر شدہ اور بھنے ہوئے بیجوں سے بنایا گیا ہے اور اس کی تیاری میں کوکو کے ایک بھی بیج کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ ’چو ویوا‘ (ChoViva) نامی اس پروڈکٹ کو بہن بھائی سارہ اور میکسیملین مارکورٹ نے تیار کیا ہے۔ اس پروڈکٹ کی عالمی کنفیکشنری (مٹھائی اور چاکلیٹ) کی صنعت میں ایک ممکنہ گیم چینجر کے طور پر ستائش کی جا رہی ہے۔
اس ایجاد کے پیچھے بنیادی محرک عالمی سطح پر کوکو کا منڈلاتا ہوا بحران ہے۔ کمپنی کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر، سارہ مارکورٹ نے بتایا کہ پیشین گوئیوں کے مطابق ۲۰۵۰ء تک عالمی سطح پر کوکو کی سپلائی میں ۵۰ فیصد کمی آ سکتی ہے۔ دنیا کا تقریباً ۸۰ فیصد کوکو صرف دو ممالک، گھانا اور آئیوری کوسٹ سے آتا ہے۔ یہ خطے موسمیاتی تبدیلی، کیڑوں کے حملوں اور مونو کلچر فارمنگ (ایک ہی فصل بار بار اگانے) کی وجہ سے تیزی سے کمزور ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی ملازمین صرف ۲۵۰؍ روپے فی گھنٹہ کیلئے اپنا مستقبل امریکی کمپنیوں کو فروخت کررہے ہیں
کوکو کے بغیر ’چو ویوا‘ اصلی چاکلیٹ جیسا ذائقہ کیسے دیتی ہے؟
مارکورٹ نے وضاحت کی کہ چاکلیٹ کے ذائقے کا تقریباً ۸۰ فیصد حصہ خود کوکو کے بیج سے نہیں، بلکہ پروسیسنگ کے مراحل جیسے تخمیر، بھننے اور کونچنگ (conching)، اور اس کے ساتھ دودھ اور چینی کے ملاپ سے حاصل ہوتا ہے۔ چیک جمہوریہ کے شہر پلسن میں واقع کمپنی کی فیکٹری سے حاصل کردہ سورج مکھی کے بیجوں کے کنسنٹریٹ کا استعمال کرتے ہوئے بالکل اسی پروسیسنگ کو دہرا کر، ’پلیانیٹ اے فوڈز‘ بالکل اصلی چاکلیٹ جیسا ذائقہ اور بناوٹ دوبارہ تیار کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایپل میموری چپ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھائے گا
ماحول اور لاگت کے محاذ پر بڑے فوائد
روایتی چاکلیٹ کے مقابلے میں ’چو ویوا‘ کا کاربن فٹ پرنٹ ۶ء۷۳ فیصد کم ہے۔ اس کی ملک ریسپی کا کلائمیٹ فٹ پرنٹ ۸ء۲ کلوگرام CO2e/kg ہے، جبکہ روایتی چاکلیٹ کا کلائمیٹ فٹ پرنٹ ۶ء۱۰ کلوگرام CO2e/kg ہوتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر پورا جرمنی چاکلیٹ سے ’چو ویوا‘ پر منتقل ہو جائے، تو اس سے سالانہ تقریباً ۰۲ء۶ ارب کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کو بچایا جا سکتا ہے۔ یہ پروڈکٹ چاکلیٹ کے مقابلے تیار کرنے میں بھی سستی ہے، جبکہ چاکلیٹ کی قیمت کوکو کے بحران کے باعث حالیہ برسوں میں دو سے چار گنا تک بڑھ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سڈنی سے لندن دنیا کی طویل ترین فاصلے والی پرواز ۲۰۲۷ء میں اڑان بھرے گی
پورے یورپ کی صنعتوں میں قبولیت
۲۰۲۱ء میں قائم شدہ کمپنی ’پلانیٹ اے فوڈز‘ اب سالانہ ۱۰ ہزار ٹن ’چو ویوا‘ تیار کرتی ہے اور کمپنی میں ۱۸ ممالک کے محققین کام کر رہے ہیں۔ کمپنی نے پورے یورپ میں چاکلیٹ بنانے والے بڑے اداروں کے ساتھ ساتھ سوئٹزرلینڈ و بیلجیم کے معروف برانڈز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ فرانس میں، خاندانی طور پر چلنے والی ’ایبٹے چاکلیٹری‘ (Abtey Chocolaterie) اپنے پروڈکشن کا کچھ حصہ ’چو ویوا‘ کیلئے مختص کرنے والی پہلی فرانسیسی کمپنی بن گئی ہے، جس کی بدولت اس کا سالانہ ٹرن اوور بڑھ کر ۲۱ ملین یورو ہوگیا اور اس کی برآمدات ۴۷ ممالک تک پھیل گئی ہیں۔ اس پیش رفت نے بزنس کو صرف مخصوص سیزن کے بجائے پورا سال مستقل طور پر چلنے کے قابل بنا دیا ہے۔