Updated: June 20, 2026, 10:03 PM IST
| Tehran
ایران نے غزہ کو وسیع تر علاقائی امن کوششوں کا حصہ بنانے کا اشارہ کیا ہے، ایران کے پاسداران انقلاب کے قدس فورس کے کمانڈر نے محصور غزہ میں اسرائیل کو ’’طوفان‘‘سے خبردار کیا ہے، جبکہ اسرائیل کا لبنان پر حملہ امریکہ ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
ایران نے اشارہ دیا ہے کہ غزہ اس کے وسیع تر علاقائی امن منصوبوں میں تیزی سے نمایاں ہو سکتا ہے، کیونکہ اعلیٰ عہدیداروں نے اس محصور علاقے کو جاری جنگ بندی اور سفارتی کوششوں سے منسلک کیا ہے۔پاسداران انقلاب کے قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے جمعہ کو امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسرائیل کو خبردار کیا کہ غزہ ، جنگ کا ایک اور میدان بن سکتا ہے۔ قاآنی نے حزب اللہ کی جنگی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’جب ہم نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس میرصاد (ڈرون) ہیں، تو آپ نے توجہ نہیں دی اور آپ پھنس گئے۔۱۰۰؍ ہلاکتوں کا جواب کون دے گا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: چھ سالہ ہند رجب قتل کیس سے منسلک ۵۲؍ویں بٹالین کا کمانڈر لبنان میں مارا گیا
بعد ازاں غزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’’غزہ کا بھی اپنا طوفان ہے۔ اگر تم اپنے سیاستدانوں کے راستے پر چلے تو تم اس طوفان میں بھی پھنس جاؤ گے۔ خبردار رہو۔‘‘تاہم ان کے بیانات کے کچھ دیر بعد ایرانی ڈپٹی وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے الجزیرہ کو بتایا، جو اس ہفتے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے، ’’ہم غزہ سمیت تمام محاذوں پر امن حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہم نے لبنان کو اس کی جنگ سے براہ راست تعلق کی وجہ سے یادداشت میں شامل کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران علاقائی بالادستی کا خواہاں نہیں اور خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مشترکہ مفادات کا خواہشمند ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کو لبنان سے۶۰؍ دن میں واپس جانا ہوگا‘‘
واضح رہے کہ بدھ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امن کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر الیکٹرانک طور پر دستخط کیے۔یادداشت کا مقصد۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن اس میں غزہ کا کوئی براہ راست ذکر نہیں ہے، جہاں ۲۰۲۳ءسے اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں تقریباً۸۰؍ ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں،۲۳؍ لاکھ کی آبادی تقریباً مکمل طور پر بے گھر ہو چکی ہے اور۹۰؍ فیصد انفراسٹرکچر مکمل یا جزوی طور پر تباہہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نیا ضابطہ متعارف کرایا
دریں اثناء اسرائیلی فورسیز غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض ہیں اور مزید علاقے پر قبضے کی دھمکی دے رہی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے بدھ کو بتایاغزہ میں اسرائیلی فوجیوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران۱۰۰۵؍ فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے ۔دوسری جانب اسرائیل کا لبنان پر حملہ امریکہ ایران امن معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں جمعہ کو اسرائیلی افواج نے کم از کم۵۰؍ لبنانی شہریوں کو ہلاک کیا، جن میں بہت سے عام شہری بھی شامل تھے، جبکہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں چار اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔