Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی ریزروسٹ جنگی جرائم کی شکایت کے بعد ہندوستان سے فرار

Updated: June 20, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

اسرائیلی ریزروسٹ جنگی جرائم کی شکایت کے بعد ہندوستان سے فرار ہو گیا، اس کا یہ عمل ہند رجب فاؤندیشن کی جانب سے غزہ میں شہری مکانات کی تخریب میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے اور اس کی گرفتاری کے لیے شکایت درجکیے جانے کے چند دن بعد سامنے آیا۔

Israeli soldiers celebrate the destruction of Palestinian homes. Photo: X
فلسطینی گھروں کی تباہی پر جشن مناتے اسرائیلی فوجی۔ تصویر: ایکس

ہند رجب فاؤنڈیشن کی جانب سے غزہ میں شہری مکانات کی تخریب میں ملوث ہونے کا الزام عائد کئے جانے والے ایتان گلبوا کے خلاف حکام کو اس کی گرفتاری کے لیے شکایت دائر کیے جانے کے چند دن بعد ہندوستان سےفرار اختیار کر گیا۔ یہ فوجی ہندوستان میں چھٹیاں منا رہا تھا۔ وکیل، جس نے شکایت دائر کی اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے یہ بات مڈل ایسٹ آئی کو بتائی۔ اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت ہندوستان کی اسرائیل کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک شراکت داری ہے، لیکن ہندوستانی ملکی قانون بشمول جنیوا کنونشن ایکٹ، ۱۹۶۰ءبین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ذمہ داریوں کو شامل کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جنگی جرائم کے الزامات ان جرائم کے دائرے میں آئیں گے جن کی تحقیقات کرنے کے لیے ہندوستان قانونی طور پر پابند ہے اگر دائرہ اختیار قائم ہو جائے۔

یہ بھی پڑھئے: چھ سالہ ہند رجب قتل کیس سے منسلک ۵۲؍ویں بٹالین کا کمانڈر لبنان میں مارا گیا

تنظیم کے مطابق، گلبوا نے غزہ میں رہائشی محلوں کی تخریب میں حصہ لیا اور ان کارروائیوں کو ویڈیواور تصاویر کے ذریعے دستاویز کیا جو بعد میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔تصاویر میں گلبوا کو اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائی کے دوران خان یونس اور رفح میں شہری مکانات کی تباہی کی ہدایت دیتے اور جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جسے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور نسل کشی کے ماہرین نے نسل کشی قرار دیا ہے۔ فاؤنڈیشن  کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے تنظیم کی طرف سے جب شکایت دائر کی گئی تو شیئر کیے گئے ایک تبصرے میں کہا ا یتان گلبوا سیاح نہیں ہے۔ وہ ایک جنگی مجرم ہے جو فی الحال ہندوستان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے جبکہ اپنے جرائم کے نتائج سے بھاگ رہا ہے۔جحجہ نے مزید کہا کہ’’ نئی دہلی کو اپنی سرزمین کو ان لوگوں کے لیے پناہ گاہ نہیں بننے دینا چاہیے جو شہری زندگیوں کی تباہی کا جشن مناتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ۲۰۲۴ء میں اپنے قیام کے بعد سے، تنظیم نے۳۰؍ دائرہ اختیار میں۹۰؍ سے زیادہ فوجداری شکایات دائر کی ہیں۔ہندوستان، تھائی لینڈ اور سری لنکا کے ساتھ، اسرائیلیوں کے لیے ان کی فوجی خدمات مکمل کرنے کے بعد ایک مقبول مقام بن گیا ہے۔اندازہ لگایا جاتا ہے کہ دسیوں ہزار اسرائیلی سالانہ ہندوستان کا دورہ کرتے ہیں، خاص طور پر ہمالیہ کی دامن میں، جسے عام طور پر ’’ہمس ٹریل‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں بہت سے لوگ آرام، تفریح اور صحت یابی کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کو لبنان سے۶۰؍ دن میں واپس جانا ہوگا‘‘

گلبوا، جو غزہ میں ایک غیر قانونی اسرائیلی بستی میں پیدا ہوا اور بعد میں۲۰۰۴ء میں اسرائیل کی فلسطینی سے واپسی سے قبل جنوب مغربی غزہ میں ایک زرعی بستی موشاو موراگ میں رہتا تھا، ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ءکے بعد اسرائیلی فوج کے اس علاقے پر حملے میں شامل ہوا۔ MEE  کی رپورٹ کے مطابق اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد، اس نے ہندوستان کا سفر کیا، جہاں اسے اولڈ مانالی اور ہماچل پردیش کے گوندلا گاؤں میں دیکھا گیا۔وکیل نے کہا کہ شکایت پر ہندوستان کا ردعمل ’’کمزور‘‘ رہا، حالانکہ ملک جنیوا کنونشنز ایکٹ ۱۹۶۰ءکے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند فاؤنڈیشن  کے جائزے کے دستاویزات سے پتہ چلا کہ شکایت ہندوستان کی وزارت داخلہ کے غیر ملکیوں کے ڈویژن کو بھیج دی گئی تھی۔تاہم، اس عرصے کے دوران کوئی کارروائی نہیں کی گئی جب ملک بدری کے اقدامات کیے جا سکتے تھے۔اپنی 2 جون کی شکایت میں، فاؤنڈیشن  نے ہندوستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ گلبوا کو فوری طور پر گرفتار کریں، اس کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) درج کریں، اور اگر گرفتاری ممکن نہ ہو تو اسے ہندوستان سے ملک بدر کریں۔ یاد رہے یہ شکایت ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلا معاملہ ہے۔ حالانکہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں توسیع ہو رہی ہے۔اسرائیلی عہدیداروں، بشمول سفارت کاروں اور وزیراعظم نیتن یاہو نے، گزشتہ ڈھائی سالوں میں اسرائیل کی ہندوستان کی سفارتی حمایت کو بارہا سراہا ہے۔ہندوستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں جنوبی افریقہ کے کیس کی حمایت نہیں کی، جو اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگاتا ہے۔ملک نے اسرائیل کے خلاف اسلحے کی پابندی میں بھی شمولیت سے انکار کر دیا ہے جبکہ فوجی ساز وسامان کی برآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK