Inquilab Logo Happiest Places to Work

تین سال سے بہار اردو اکادمی کی تمام سرگرمیاں ٹھپ

Updated: September 06, 2020, 12:44 PM IST | Asfar Faridi | Patna

اکادمی کو۳؍ سال سے سیکریٹری نہ ملنے کے سبب کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے، صرف ماہنامہ ’ زبان و ادب ‘ نامی رسالہ پابندی سے شائع ہورہا ہے عظیم اللہ انصاری کواکادمی کے سیکریٹری کا اضافی چارج دیا گیا ہے لیکن ایگزیکٹیو بورڈ کی تشکیل نہیں کی گئی ،اسٹاف کی آدھی سے زائد جگہیں خالی

Urdu Academy Bihar
اردو اکیڈمی بہار

ان دنوں بہار اردو اکادمی میں کچھ نہیں ہورہا ہے۔ حالانکہ  حکمراں جماعت جنتادل یونائٹیڈ نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار انصاف کے ساتھ ترقی میں یقین رکھتے ہیں۔ بہار میں ہندوستان کی عزیز زبان اردو کا فروغ ہورہا ہے۔ اردو کے فروغ کیلئے بہار میں کئی ادارے ہیں ۔ ان میں ’بہار اردواکادمی‘ بھی شامل ہے۔  واضح ہوکہ بہار اردو اکادمی کا قیام ۱۹۷۲ء میں ہواتھا۔ بہار اردواکادمی کی ویب سائٹ پر اردو اور انگریزی زبانوں میں اس اکادمی کا تعارف ہے۔ ہندی بہار کی سرکاری زبان ہے، اس میں اردو اکادمی کا تعارف کیوں نہیں ہے؟ یہ سوال ابھی تک نہیں اٹھاہے۔
  ریاست کے گورنر اس اکادمی کے سرپرست ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ صدر اور محکمۂ اقلیتی فلاح کے وزیر کارگزار صدر ہیں۔ اکادمی کے ضابطوں کے مطابق مجلس انتظامیہ کے فیصلوں کو سیکریٹری کی نگرانی میں عملی جامہ پہنایا جا تا ہے۔
سکریٹری یا انچارج سکریٹری؟
 گزشتہ دنوں انقلاب نے  اردو ادکامی کے دفتر کا جائزہ لیا۔ اشوک راج پتھ پر واقع اردو بھون کی پہلی منزل پر جانے کے بعد دائیں طرف ایک بڑا سا ہال ہے۔ اسی ہال میں داخل ہوں گے تو پہلے ہی دروازے پر ایک تختی لگی ہے۔ اس پر لکھا ہے کہ عظیم اللہ انصاری، سیکریٹری، بہار اردو اکادمی۔  اپنے دفتر میں وہ سیکریٹری کی کرسی پر نہیں بیٹھے ہیں۔ سامنے کے صوفہ پر ہیں۔ میز پر کچھ فائلیں ہیں، دونوں طرف اکادمی کے اسٹاف اپنی اپنی فائلیں لئے موجود ہیں۔ عظیم اللہ انصاری انہیں دیکھتے ہیں اور ضروری کارروائی کرتے ہیں۔ تھوڑی فرصت نکال کر وہ ’انقلاب‘ کے اس نمائندہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن فوراً عذر پیش کردیتے ہیں کہ مجھے تو بس اضافی چارج ملا ہوا ہے۔ اکادمی کی سرگرمیوں کے بارے میں فی الحال میرے لئے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اکادمی کا ماہنامہ ’زبان وادب‘ وقت پر شائع ہورہا ہے۔ اردو اکادمی کے دوسرے اسٹاف اور اہلکار بھی خاموش ہیں۔
ڈھائی کروڑ کابجٹ
 بہار اردواکادمی کا سالانہ بجٹ ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ کا ہے۔ البتہ اس کے دستور کے مطابق جو کام بھی ہوگا وہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے فیصلے سے ہوگا۔ ایگزیکٹیو کمیٹی یعنی مجلس انتظامیہ کی تشکیل حکومت کرتی ہے۔ اس کمیٹی میں ۱۵؍ ممبران ہوتے ہیںجن میں سے ۶؍ کو حکومت نامزد کرتی ہے۔ باقی ۹؍ اپنے عہدہ کی وجہ سے اس کے رکن ہوتے ہیں۔ بہار اردواکادمی کے اصول وضوابط سے واقفیت رکھنے والے بتاتے ہیں کہ سیکریٹری کام کرنا چاہیں تو اکادمی کی ایگزیکٹیو کے مستقل ار اکین کے ساتھ میٹنگ کر کے ضروری فیصلے کر سکتے ہیں۔
اصل اغراض ومقاصد
 بہار اردواکادمی کے اصل اغراض ومقاصد میں اردو زبان وادب کی ترقی اور ترویج واشاعت شامل ہے۔ اکادمی ریاست اور بیرون ریاست کے شاعروں ، ادیبوں اور صحافیوں کے درمیان انعامات واسناد کی تقسیم کے علاوہ معذور شعراء اور ادیبوں کے درمیان امدادی رقومات بھی بانٹتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسودات کی اشاعت کیلئے بھی رقم دی جاتی ہے لیکن گزشتہ ۳؍ سال سے بہار اردو اکادمی کی یہ سبھی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہیں۔ اکادمی کی ویب سائٹ پرکتابوں پر انعام کے مقصد سے فارم بھرنے کیلئے گزشتہ سال ایک اشتہار شائع ہوا تھا۔ اس کے مطابق فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ جولائی ۲۰۱۹ء تھی۔ کتابوں پر انعامات کا کیا حشر ہوا؟ اس بارے میں اکادمی کے موجودہ ذمہ داران خاموش ہیں۔
آدھے سے بھی کم افرادی قوت سے کام چل رہا ہے
ٍ اردو اکادمی میں کم وبیش ۳؍ درجن اسامیاں منظور شدہ ہیں جن میں سے فی الحال محض ۱۲؍ افراد مستقل ملازمت پر ہیں جبکہ ۴؍غیر مستقل ملازم ہیں ۔ ایسے میں اکادمی کا چلا نا مشکل ہے۔ 
 سیکریٹری اگست ۲۰۱۸ء میں سبکدوش ہوئے تھے
 بہار اردو اکادمی کے سابق سیکریٹری مشتاق احمد نوری ۶؍ اگست ۲۰۱۸ء کو اپنی ۳؍ سالہ مدت کار پوری کرکے سبکدوش ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے اردو اکادمی کو باضابطہ سیکریٹری نہیں مل پایا ہے۔ اس سلسلے میں محبان اردو بتاتے ہیں کہ یہ حکومت کی مہربانیوں کے سبب ہے۔
  ادھر حکمراں جماعت جے ڈی یو کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ انصاف کے ساتھ ترقی میں یقین رکھتے ہیں۔ خود وزیر اعلیٰ بھی کہتے رہے ہیں کہ انہیں ووٹ سے مطلب نہیں  ، وہ صرف کام سے مطلب رکھتے ہیں۔

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK